.

’’انصار بیت المقدس‘‘ نے رفح میں کار بم حملے کی ذمے داری قبول کرلی

مصری انٹیلی جنس کے ہیڈکوارٹرز میں کار بم دھماکے میں 6 فوجی ہلاک، 17 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع علاقے جزیرہ نما سیناء کے شہر رفح میں فوجی سراغرساں ادارے کے صدر دفتر پر کاربم حملے میں چھے فوجی ہلاک اور سترہ زخمی ہو گئے ہیں۔سیناء میں متحرک جنگجو گروپ ’’انصار بیت المقدس‘‘ نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

ایک فوجی عہدے دار نے بتایا ہے کہ رفح میں امام علی روڈ پر واقع ملٹری انٹیلی جنس کے ہیڈکوارٹرز کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ بم دھماکے کے نتیجے میں فوجی عمارت کے ساتھ واقع دوسری عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور ان کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔

واضح رہے کہ 3 جولائی کو مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے غزہ کی پٹی اور اسرائیل کے ساتھ واقع سیناء میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

مصری فوج شمالی سیناء میں جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے اور اس نے سوموار کو بدامنی کا شکار اس علاقے میں اپنی گرفت مضبوط بنانے کا اعلان کیا تھا۔فوج نے گذشتہ ہفتے کے روزغزہ کی پٹی کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں ایک بڑی کارروائی شروع کی تھی اور وہاں جھڑپوں میں کم سے کم تیس جنگجوؤں کو ہلاک یا زخمی کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

مذکورہ بالا جنگجو گروپ انصار بیت المقدس ہی نے مصر کے وزیر داخلہ محمد ابراہیم کے قافلے پر گذشتہ جمعرات کو دارالحکومت قاہرہ میں کار بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس تنظیم نے انٹرنیٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ ’’اللہ کی مرضی سے انصاربیت المقدس سے تعلق رکھنے والے آپ کے بھائی ایک فدائی کارروائی کے دوران قاتل محمد ابراہیم کی سکیورٹی کو تہس نہس کرنے میں کامیاب رہے ہیں‘‘۔بیان میں اس جنگجو گروپ نے ’’سرکش کو قتل نہ کرنے پر معذرت کی تھی‘‘ اور محمد ابراہیم کے علاوہ مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی پر بھی مزید حملے کرنے کی دھمکی دی تھی۔