مصر: 850 ہلاکتوں کے ذمہ دار اسلام پسند ہیں: حسنی مبارک

مبارک، سابق وزیر داخلہ اور دیگر کی عدالت میں پیشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں طویل عرصے تک حکمرانی پر فائز رہنے کے بعد عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے الگ ہونے والے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف 2011 کی تحریک مزاحمت میں موت کے گھاٹ اتارے گئے 850 مظاہرین کے مقدمہ قتل کی سماعت ہفتہ کے روز دوبارہ شروع ہوئی۔

حسنی مبارک جنہیں رابعہ العدوایہ کے اخوانی دھرنے کے سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں کامیاب کریک ڈاون کےذریعے خاتمے کے بعد ایک مصری عدالت نے جیل سے رہا کر دیا تھا. ہفتے کے روز عدالت میں وھیل چئیر پر آئ ےتو وہ جیکٹ پہنے ہوئے تھے اور انہوں نے سیاہ چشمہ لگایا ہوا تھا۔

حسنی مبارک پر 2011 کی تحریک کا حصہ بننے والے 850 مظاہرین کے قتل کے حوالے سے مقدمہ میں ان کے ان کے بیٹے کے علاوہ حسنی دور کے وزیر داخلہ حبیب العدلی ودیگر شریک ملزم کے طور پر شامل ہیں ۔

حسنی مبارک اور شریک ملزموں کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان ہلاکتوں کی بنیادی ذمہ داری اسلام پسندوں پرعائد ہوتی ہے۔

ماہرین قانون کے مطابق اس الزام کے تحت حسنی مبارک اور ان کے ساتھیوں کو زیادہ سے زیادہ سزا ہوئی تو وہ سزائے موت ہو سکتی ہے۔ واضح رہے جون 2012 میں حسنی مبارک کو اسی مقدمے میں عمر قید کی سزا ہو چکی ہے، تاہم بعد میں اس مقدمے کو از سر چلانے فیصلہ دیا گیا تھا۔

حسنی مبارک کو سینکڑوں مظاہرین کی ہلاکت کے مقدمے کا ایسے ماحول میں سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جب عبوری وزیر داخلہ نے اخوان کے دھرنوں سے نمٹنے والی سکیورٹی فورسز کو 35 ملین ڈالر کی خطیر رقم کا خصوصی بونس دینے کا اعلان کیا ہے اور مصری اسلام پسندوں کو حسنی دور سے بھی زیادہ مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں