مغربی کنارے پر اسرائیلی تسلط، فلسطینی معیشت کو 3.4 ارب ڈالر سالانہ نقصان

رپورٹ کے مطابق وسائل سے بھرپور اور زرعی علاقے فلسطینیوں کیلئے ممنوعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی معیشت اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے ہر سال 3.4 ارب ڈالر کی تجارت سے محروم ہو رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اپنے تسلط میں موجود 61 فی صد مغربی کنارے پر سے پابندیاں اٹھا لے تو فلسطینی اپنی متزلزل معیشت کو 2011 کے جی ڈی پی کے 35 فی صد تک لے آنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

ورلڈ بینک کے مطابق اگر فلسطینیوں کو ممنوعہ علاقے میں ترقیاتی کام کرنے کی اجازت مل جاتی ہے تو غیر ملکی امداد پر انحصار کرنے والی فلسطینی حکومت اپنا آدھا خرچہ اٹھانے کے قبل ہو جائے گی۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینی معیشت کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتا ہے مگر اس نے مغربی کنارے کی قسمت کا فیصلہ امن مذاکرات کے نتیجے پر چھوڑ رکھا ہے۔

ورلڈ بینک کے مطابق،"مغربی کنارے کی آدھی زمین جو کہ زرعی اور وسائل سے بھرپور ہے، تک فلسطینی شہریوں کو رسائی کی اجازت نہیں ہے۔ ورلڈ بینک کی جانب سے اس ممنوعہ علاقے کے معیشت پر اثرات کے بارے میں پہلی تفصیلی رپورٹ میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس علاقے سے فلسطینی شہریوں کو باہر رکھنے کی وجہ سے فلسطینی معیشت کو سالانہ 3٫4 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔"

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ یا آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق فلسطینی جی ڈی پی کی ترقی کی شرح جو کہ 2011 میں 11 فی صد اور 2012 میں 5٫9 فی صد رہ گئی تھی اس سال صرف 4٫5 فی صد رہ جائے گی۔

پچھلے ماہ مشرق وسطیٰ میں کوآرٹیٹ نے فلسطینی معیشت کی بحالی میں مدد کے لئے ایک منصوبہ شائع کیا تھا تاکہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کی حمایت کی جا سکے۔

تین سالہ "فلسطینی اقتصادی انیشی ایٹو" میں نجی سیکٹر کی ترقی پر توجہ دی جائے گی۔ اس میں ترقی کے لئے آٹھ اہم شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہیں جن میں تعمیری سامان، زراعت، توانائی اور پانی اور سیاحت شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں