کیمیائی ماہرین کو شام میں خطرناک صورتحال کا سامنا ہوگا: بان کی مون

شام کے لئے کیمیائی ماہرین کی تعداد 100 تک بڑھائی جا سکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ شام میں موجود کیمیائی ماہرین کی ٹیم کو خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ شام میں موجود ٹیم تقریبا ایک سال تک کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے منصوبے پر کام کرے گی۔

اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں بان کی مون نے کہا ہے کہ یہ ایک ایسا آپریشن ہے جیسا پہلے کبھی عمل میں نہیں لایا گیا ہے۔

عالمی خبررساں ادارے کے مطابق شامی کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئے بان کی مون نے تجویز کیا کہ ٹیم کو 100 ارکان تک بڑھا دیا جائے جس میں سائنسدان، سامان کو سنبھالنے والے ماہر اور سیکیورٹی ماہرین شامل ہوں گے جو کہ ایک سال تک اس آپریشن کو مکمل کریں گے۔ اس کے علاوہ کمیائی ہتھیار تلف کرنے کے دو مراکز دمشق اور قبرص میں قائم کئے جائیں گے۔

اس وقت شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع سے متعلق تنظیم کے 19 اسلحہ ماہرین اور اقوام متحدہ کے 16 لاجسٹک اور سیکیورٹی ماہرین موجود ہیں اور انہوں نے کیمیائی ہتھیار بنانے والی تنصیبات کو تباہ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

بان کی مون نے ان ماہرین اور شامی شہریوں کو سارین، رائی گیس [مسٹرڈ گیس] اور دوسرے کیمیائی مادوں سے درپیش خطرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کیمیائی مادوں کی ملک میں جاری لڑائی کے درمیان منتقلی بہت خطرناک ہے۔

بان کی مون کے مطابق ان ماہرین کو پرخطر اور غیرمستحکم حالات میں کام کرنا ہو گا اور بڑے شہروں مثلاً دمشق، حمص اور حلب میں حالات انتہائی خطرناک ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ،"شہری علاقوں پر بھاری توپ خانے سے بمباری، فضائی حملے، مارٹر حملے اور اندھادھند بمباری بہت عام ہے اور معرکوں کی جگہ بہت جلدی بدل جاتی ہے۔"

تنظیم برائے انسداد کیمیائی ہتھیار اور اقوام متحدہ نے انتہائی عجلت میں ایک ٹیم تیار کی تھی تاکہ وہ 27 ستمبر کو ہونے والے امریکا اور روس کے تخفیف اسلحہ کے منصوبے کی توثیق کرنے والی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد پر جلد سے جلد عمل شروع کر سکیں۔ اس منصوبے کا مقصد ہے کہ 2014ء کے وسط تک شام کے 1000 ٹن کے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو تباہ کیا جائے۔

یہ منصوبہ 21 اگست کو دمشق کے قریب ہونے والے ایک کیمیائی حملے کے بعد بنایا گیا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس کیمیائی حملے میں 1400 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں