.

دمشق کے یرموک مہاجر کیمپ سے ڈیڑھ لاکھ فلسطینیوں کی نقل مکانی

جنگ کی وجہ سے 60 ہزار لبنان اور یورپ ہجرت پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی تنظیم 'فتح' کی سینٹرل کمیٹی کے سینیئر رکن عزام الاحمد نے کہا ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے باعث دمشق کے نواح میں قائم "یرموک" مہاجر کیمپ سے ایک لاکھ پچاس ہزار فلسطینی پناہ گزین نقل مکانی کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری اور امدادی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی اور شامی مہاجرین کے درمیان امتیاز برتنے کے بجائے دونوں کے ساتھ یکساں اور مساوی سلوک کریں۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق "فتح" کے مرکزی رہ نما نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ شام میں جاری شورش کے باعث 60 ہزار فلسطینی پناہ گزین دمشق چھوڑ کر لبنان پہنچ چکے ہیں، سات ہزار اردن اور ہزاروں کی تعداد میں یورپی ملکوں کو چلے گئے ہیں۔

عزام الاحمد کا کہنا تھا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے پاس کوئی مستقل اور محفوظ ٹھکانہ نہ ہونے کے باعث ان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پناہ گزینوں کی مدد کے لیے تنظیم آزادی فلسطین اور اقوام متحدہ کے امدادی ادارہ برائے پناہ گزین"اونروا" کے پاس بھی اتنے وسائل نہیں ہیں جن سے پناہ گزینوں کی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔

فلسطینی رہ نما نے شکوہ کیا کہ شام میں دربدر ہونے والے فلسطینیوں کے ساتھ شامی مہاجرین جیسا برتاؤ نہیں کیا جا رہا ہے۔ نہ ہی شام کے اندر ان کا کوئی پرسان حال ہے اور نہ ہی نقل مکانی کرکے بیرون ملک جانے والوں کی کوئی دیکھ بحال کرنے پرتوجہ دے رہا ہے۔

عزام الاحمد نے کہا کہ لبنان کے سیکیورٹی ادارےامن وامان کے قیام کی غرض سےفلسطینی مہاجر کیمپوں میں داخل ہونے کی ہمت کرتے ہیں تو فلسطینی تنظیمیں ان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔ حتیٰ کہ اگر خیمہ بستیوں کے اندر موجود فلسطینی باشندوں کے پاس سے اسلحہ جمع کرانے کے لیے کوئی مہم چلائی جاتی ہے توہم اس میں بھی تعاون کریں گے۔