.

ایران سے تکنیکی معاہدے کی امید ہے: عالمی جوہری ادارہ

اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کے سربراہ کے حوالے سے رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا میں جوہری معاملات کو دیکھنے والے اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ یوکیا امانو نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کے دورہ تہران کے دوران ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے تکنیکی معاہدے کو حتمی صورت دینے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

ایک عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان کے ایرانی ذمہ داروں سے بات چیت اگرچہ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے فوری بعد ہونے جا رہی ہے لیکن یہ الگ نوعیت کے مذاکرات ہیں اور یہ جنیوا مذاکرات کا فالو اپ نہیں ہوں گے۔

عالمی جوہری شعبے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ''مجھے امید ہے کہ ہم باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے ایک متفقہ بیان سامنے لانے میں کامیاب ہو جائِیں گے۔'' انہوں نے مزید کہا '' دونوں طرف کے تکنیکی ماہرین مذاکرات کے بعد سمجھوتے کی طرف برھنے کی کوشش کریں گے۔''

مبصرین کا خیال ہے کہ جوہری توانائی سے متعلق عالمی ادارے کے ساتھ ایران کے مذاکرات میں اس رہ جانے والی کمی اور کوتاہی کا ازالہ بھی ممکن ہو جائے گا جو جنیوا مذاکرات کے دوسرے دور میں بوجوہ رہ گئی ہے۔ امانو کا کہنا ہے کہ '' ہمیں امید ہے اسی وجہ سے عالمی ادارہ اس سلسلے میں مذاکرات کرنے والا ہے۔''

ویانا میں موجود ایک اہم سفارت کار نے امکان ظاہر کیا ہے کہ '' کہ ایران کے ساتھ ابتدائی نوعیت کا اعتماد سازی کے حوالے سے معاہدہ سامنے آ سکتا ہے۔''

دوسری جانب عالمی جوہری ادارے کے سربراہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ '' ایران اور اقوام متحدہ کا ذیلی ادارے کے درمیان اہم نکتے پر اتفاق ہو چکا ہے، ایران نے پچھلے ماہ ایک نئی تجویز پیش کی تھی ہمیں امید ہے اس کی بنیاد پر معاملات آگے بڑھ سکتے ہیں۔''

تاہم عالمی ادارے کے سربراہ نے کہا کہ مئی 2012 میں ان کا دورہ تہران ناکام رہا تھا۔ اس کے مقابلے میں اب عالمی ادارہ پرامید ہے۔