.

ایران نے دمشق کے نواح میں فوجی چڑھائی کردی:شامی اپوزیشن

امریکا،روس جنیوا مذاکرات سے قبل غیرملکی جنگجوؤں کو شام سے نکالیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کے وزیردفاع اسعد مصطفیٰ نے ایران پر الزام عاید کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں پر قبضے کے لیے منظم چڑھائی کررکھی ہے۔

اسعد مصطفیٰ نے ہفتے کے روز العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ''دمشق کے نواحی علاقے الغوطہ پر بڑے منظم انداز میں چڑھائی کی گئی ہے۔اس حملے میں مسلح فورسز کی بھاری نفری شریک ہے اور وہ توپخانے سے شدید گولہ باری کررہی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ اس منظم حملے میں کون سی فورسز شریک ہیں۔ان میں ایرانی ،حزب اللہ اور عراقی ملیشیا کے ارکان شریک ہیں جو وہاں صدر بشارالاسد کے دفاع میں لڑرہے ہیں جبکہ شامی فوج وہاں اس لڑائی کی صرف تصویر کشی کے لیے موجود ہے۔

شام کی جلاوطن حکومت کے وزیردفاع نے جنیوا میں ہونے والی دوسری امن کانفرنس کے اسپانسروں پر الزام عاید کیا کہ وہ اس کے ذریعے شام میں صرف غیرملکی فورسز کو کام کرنے کی اجازت دینے جارہے ہیں۔انھوں نے امریکا اور روس سے مطالبہ کیا کہ ان جارح فورسز کو ہرگز بھی شام میں لڑائی میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔انھوں نے خانہ جنگی کا شکار ملک سے تمام غیر ملکی جنگجوؤں کے انخلاء کا مطالبہ کیا۔

انھوں نے جنیوا دوم کانفرنس کے حوالے سے اپنے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ایجنڈا واضح ہونا چاہیے اور جنیوااول میں طے شدہ امور پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔

لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ''جنیواکانفرنس میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکے گی''۔جنیوا میں مجوزہ امن کانفرنس نومبر کے آخری ہفتے میں منعقد ہونا تھی لیکن ابھی تک امریکا اور روس کے درمیان اس کے ایجنڈے پر اتفاق رائے ہوسکا ہے اور نہ شامی حزب اختلاف کے مختلف گروپوں نے کوئی واضح مشترکہ مؤقف اختیار کیا ہے۔

شامی قومی اتحاد نے گذشتہ ہفتے اس میں شرکت پر آمادگی ظاہر کردی تھی لیکن خانہ جنگی کا شکار ملک میں صدر بشارالاسد کی فوجوں کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجو امن مذاکرات میں شرکت کی مخالفت کررہے ہیں۔ان کے علاوہ حزب اختلاف کے گروپ شامی صدر بشارالاسد کی رخصتی کا کوئی واضح نظام الاوقات دینے کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ شامی حکومت کا کہنا ہے کہ صدر بشارالاسد کے استعفے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔