اقوام متحدہ کی عراق سے شام کے لیے امدادی پروازوں کا آغاز

آیندہ 12 روز میں طیاروں کے ذریعے 400 ٹن خوراک بھیجی جائیں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ نے عراق سے شام میں خانہ جنگی سے متاثرین کے لیے انسانی امداد بھیجنے کا آغاز کردیا ہے اور آیندہ بارہ روز کے دوران چار سو ٹن سے زیادہ خوراک ،ادویہ اور سردی سے بچاؤ کا سامان بھیجا جائے گا۔

عالمی ادارے کے عملے نے عراق کے خودمختار علاقے کردستان کے دارالحکومت اربیل سے اتوار کو خوراک سے لدا پہلا مال بردار طیارہ روانہ کیا ہے اور وہ شام کے کرد آبادی والے شہر الحسکہ میں اترا ہے۔

اقوام متحدہ کے تحت عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آیندہ بارہ روز کے دوران بھیجی جانے والی امداد چھے ہزار سے خاندانوں کے لیے کافی ہوگی۔گذشتہ ہفتے شام اور پڑوسی ملک لبنان میں برفانی طوفان کی وجہ سے شامی مہاجرین کے لیے یہ امداد روانہ کرنے میں تاخیر ہوئی تھی اور تیز سرد ہواؤں اور منجمد درجہ حرارت کے پیش نظر اربیل کے ہوائی اڈے سے پروازیں روانہ نہیں ہوسکی ہیں۔

ڈبلیو ایف پی کے علاقائی رابطہ کار ایاد نعمان نے اربیل سے بتایاہے کہ''سردی کی شدید لہر کے نتیجےمیں قامشیلی اور شام میں دوسرے مقامات میں لوگوں کو بہت ابتر صورت حال کا سامنا ہے۔شام کے مشرق میں واقع علاقے دارالحکومت سے دور دراز واقع ہونے کی وجہ سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں اور وہاں خوراک پہنچانے میں بھی مشکلات درپیش ہیں''۔

عراق اور شام کی حکومتوں نے خانہ جنگی سے متاثرہ افراد کو امدادی سامان پہنچانے کی اجازت دی ہے اور آیندہ بارہ روز میں چار سو ٹن خوراک کے علاوہ کمبل،کپڑے ،ادویہ اور 196 کلوگرام وزنی طبی سامان بھیجا جائے گا۔واضح رہے کہ اس سے پہلے اقوام متحدہ کے تحت اداروں نے عراق اور لبنان سے محدود پیمانے پر امداد بھیجی تھی لیکن ترکی سے شامی صدر بشارالاسد کے اعتراض کی وجہ سے امداد بھیجنے کا پروگرام ترک کردیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں 65 لاکھ افراد دربدر ہوئے ہیں۔ان میں 23 لاکھ پڑوسی ممالک میں مہاجر کیمپوں میں مقیم ہیں اور42 لاکھ اندرون ملک ہی عارضی خیموں یا دوسری پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں۔خانہ جنگی کے نتیجے میں سوالاکھ سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں