.

اخوان المسلمون سے الگ ہونے والے گروپ نے نئی جماعت بنا لی

زیرحراست محمد بدیع کی جگہ نئے مرشدعام کے انتخاب کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی سب سے منظم دینی وسیاسی جماعت اخوان المسلمون میں پھوٹ پڑ گئی ہے اور اس سے الگ ہونے والے دھڑے نے مصری اخوان کے نام سے ایک نئی جماعت قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اخوان کے ایک منحرف رکن عمروعمارہ نے العربیہ کو بتایا ہے کہ اس نئی تنظیم نے مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں اپنا اجلاس منعقد کیا ہے اور توقع ہے کہ یہ گروپ 8 جنوری کو برطرف صدر محمد مرسی کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت سے قبل اخوان المسلمون کی شوریٰ کونسل کے رکن محمد عبدالوہاب کو اپنا نیا مرشدعام منتخب کر لے گا۔

اس گروپ کے ایک بیان کے مطابق اس میں زیادہ تر اخوان المسلمون کو چھوڑنے والے نوجوان شامل ہوئے ہیں اور وہ اخوان المسلمون کی مصری شاخ کو بین الاقوامی تنظیم سے الگ کرنا چاہتے تھے۔

عمروعمارہ نے بتایا ہے کہ مصری اخوان نے عبوری صدر عدلی منصور سے ملاقات کی ہے اور ان سے کہا ہے کہ ''ہم ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں اور اخوان المسلمون کی پرانی قیادت سے ناتا توڑ رہے ہیں''۔ان کے گروپ میں زیادہ تر مصری نوجوان شامل ہیں۔

عمروعمارہ کا کہنا تھا کہ اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ حریت اور عدل پارٹی کی جگہ ایک نئی جماعت قائم کی جائے گی۔اس کا نام مصری نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی ہوگا۔یہ جماعت شریعت پر مبنی اسلامی ریاست کے قیام کے نظریے کو بھی خیرباد کہہ دے گی ۔

قاہرہ سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی اور سیاسی تجزیہ کارنے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اخوان المسلمون کو توڑنے کی کوشش دراصل فوج کی نگرانی میں سکیورٹی سروسز کا ایک التباس ہے اور اس کا مقصد اسلامی تحریک کو نقصان پہنچانا ہے۔

علاء البہار نے سوال کیا ہے کہ یہ کون لوگ ہیں؟وہ اخوان المسلمون میں اپنے تحرک کی کوئی تفصیل بیان کرسکتے ہیں؟یہ نام نہاد دہشت گرد گروپ انصار المقدس کی طرح ہے جو اخوان المسلمون سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔

اخوان المسلمون کے ترجمان طارق المرسی نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''نام نہاد منحرفین فوج اور سکیورٹی فورسز کی پیدوار کے سوا کچھ نہیں اور اس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ اخوان المسلمون تقسیم ہوچکی ہے اور اس کے کئی ونگ قائم ہوچکے ہیں''۔