.

ڈاکٹر مرسی کے حامی طلبہ مظاہرین پرآنسو گیس کی شیلنگ

قاہرہ میں وزارت دفاع کے نزدیک احتجاج میں شریک بعض طلبہ کی گرفتاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری پولیس نے ایک مرتبہ پھر برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامی جامعات کے طلبہ اور طالبات کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی ہے۔وہ قاہرہ میں وزارت دفاع کے نزدیک حکومت کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔

جامعہ قاہرہ کے طلبہ اور طالبات نے بدھ کو اخوان المسلمون کی جانب سے ملک گیر ہڑتال کی اپیل پر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔مصر کے سرکاری روزنامے الاہرام کی اطلاع کے مطابق پولیس نے طلبہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے اور ان میں سے بعض کو گرفتار کر لیا ہے۔

نیل ڈیلٹا میں واقع شہر الزقازیق میں بھی طلبہ نے عبوری حکومت کی جانب سے اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔وہاں بھی پولیس نے ان طلبہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس استعمال کی ہے۔

مرسی نواز فوجی انقلاب مخالف اتحاد نے بدھ کو مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی تھی۔اس پر عام شہریوں یا اخوان کے وابستگان کی جانب سے تو کسی بڑے احتجاجی مظاہرے کی اطلاع سامنے نہیں آئی لیکن جامعات کے طلبہ نے ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا ہے اور حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی ہے۔

درایں اثناء پولیس نے ساحلی شہر اسکندریہ میں ایک زیرزمین پریس کو ضبط کرنے کی اطلاع دی ہے۔اس پریس میں مبینہ طور پر مسلح افواج کے خلاف پمفلٹ چھاپے جارہے تھے۔پولیس نے پریس سے دو افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ عبوری حکومت کی جانب سے گذشتہ ہفتے ملک کی سب سے منظم اور قدیم مذہبی سیاسی جماعت کو دہشت گرد قراردیے جانے کے جابرانہ اقدام کے تحت اب اس کے وابستگان کو سخت سزاؤں کا سامنا ہوسکتا ہے۔ دہشت گرد کے الزامات میں ماخوذ کیے جانے والے اس جماعت کے قائدین اور کارکنان کو موت اور اس کے حق میں مظاہرے کرنے والے افراد کو پانچ سال تک قید کی سزائیں سنائی جاسکتی ہیں۔اس کے علاوہ اب اس کالعدم جماعت کے حق میں تحریری یا زبانی تشہیری مہم چلانے والے افراد کو بھی قید وبند کی سزاؤں کا سامنا ہوسکتا ہے۔