شام نے بھوک سے نڈھال محصورین یرموک کیمپ کی امداد پھر روک لی
'یرموک کیمپ' اکیسویں صدی کے انسانی المیے کی بدترین مثال قرار
شام کے دارالحکومت دمشق میں قائم فلسطینی پناہ گزینوں کے سب سے بڑے کیمپ "یرموک" میں بھوک اور قحط کے شکار ہزاروں خواتین اور بچوں کی امداد کے لیے پہنچنے والے قافلوں کو روک دیا گیا ہے۔
شام میں باغیوں کی ترجمان خبر رساں ایجنسی" سانا" کے مطابق پیرکے روز یہ اطلاعات آئی تھیں کہ عالمی امدادی اداروں کے کچھ قافلے امدادی سامان کے ہمراہ جلد ہی یرموک کیمپ میں داخل ہوں گے۔سات ماہ سے محصوراوربھوک سے نڈھال اہالیان کیمپ میں یہ خبرپھیلی تو وہ خوشی سے اپنے خیموں سے باہر نکل کرامدادی قافلوں کا انتظار کرنے لگے، لیکن تھوڑی دیر بعد پتا چلا کہ شامی رجیم نے امدادی قافلوں کو کیمپ میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ جس کے بعد محصورین کی امیدوں پرایک مرتبہ پھر پانی پھر گیا۔
شامی خیمہ بستیوں میں سرگرم "نیوز نیٹ ورک یونین" کے رُکن ابو جاد نے بتایا کہ سوموار کو انہیں اطلاع ملی تھی ایک امدادی قافلہ امدادی سامان کے ہمراہ شامی حکومت کے زیرانتظام "سبینہ" کالونی میں سیکیورٹی حکام کی رکاوٹیں عبور کر کے کیمپ کی طرف بڑھ رہا ہے تو کیمپ کے محصورین خوشی کے مارے اپنے خیموں سے باہر نکل آئے۔ کیمپ کے اندر موجود امدادی تنظیموں نے بھی امدادی قافلے کے استقبال کی تیاریاں شروع کر دیں۔ محصورین اور امدادی کارکنوں کی بڑی تعداد کیمپ کے مرکزی داخلی راستے کے قریب سیکیورٹی چیک پوسٹ پرجمع ہونے لگی۔ انہوں نے ہاتھوں میں ہلال احمر کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے جو اس بات کا ثبوت تھے کہ تمام شہری پرامن اور غیرمسلح ہیں۔ اسی اثناء میں یہ اطلاع ملی کہ اسدی فوج کی جانب سے امدادی قافلے پرپانچ راکٹ حملے کیے گئے ہیں۔ یہ اطلاع درست تھے۔ فائرنگ کے بعد امدادی قافلہ امداد پہنچائے بغیر ہی واپس چلا گیا۔
انسانی حقوق کے مندوب نے بتایا کہ کیمپ کی سات ماہ سے جاری ناکہ بندی کے نتیجے میں خواتین اور بچے بھوکے مر رہے ہیں۔ کیمپ کے اندر کی اصل صورت حال باہر پہنچانے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر کیمپ میں ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ کوئی بھوک اور سردی سےمررہا ہے اورکسی کو اسدی فوج گولیاں مار کر ختم کردیتی ہے۔ پچھلے چند ہفتوں کےدوران خوراک اور ادویہ نہ ملنے کے باعث 50 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ کل پیرکے روز یرموک کیمپ میں پانچ افراد مارے گئے۔ ان میں دو کی جان بھوک نے لی اور تین سرکاری فوج کی گولیوں کا نشانہ بنے۔
کیمپ کے ایک مکین نے"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ سات ماہ کے محاصرے کے دوران ایک مرتبہ بھی کوئی امدادی ادارہ امدادی سامان کے ساتھ کیمپ میں داخل نہیں ہوا ہے۔ تنظیم آزادی فلسطین کی جانب سے محصورین کیمپ کے لیے امدادی سامان پہنچانے کی مساعی کی خبریں آتی رہی ہیں لیکن محصورین روز اپنے خیموں سے باہرنکل کرفلسطینی اتھارٹی کی جانب سے امداد کے وعدوں کا انتظار کرتے ہیں۔
ادھر یرموک کیمپ میں امدادی سامان روکے جانے کےخلاف شہریوں میں نفرت اور اشتعال میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ آئے روز ہونے والی ہلاکتوں کے نتیجے میں "تنگ آمد بہ جنگ آمد" کے مصداق شہریوں کو بڑی بڑی ریلیاں نکالنے پر مجبور کردیا ہے۔ کل بھی کیمپ کے اندرمحاصرہ توڑنے کے لیے ایک بڑی ریلی نکالی گئی۔ محاصرہ تو نہ ٹوٹا البتہ شامی فوج کی گولیوں کی بوچھاڑ سے تین فلسطینی مارے گئے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کی رپورٹس کے مطابق کیمپ میں بھوک سے ہونے والی ہرہلاکت کے بعد شہری مرنے والے کی میت اٹھا کرشامی رجیم کے خلاف احتجاج کرتے ہیں، لیکن کیمپ کے اندرصورت حال کی سنگینی کا علم ہونے کے علی الرغم حکومت ٹھس سےمس نہیں ہوتی۔
کیمپ کے ایک خاتون ام احمد نے بتایا کہ "بھوک سے نڈھال کسی خاتون، بچے، بوڑھے یا مرد کو چلتے ہوئے اچانک ڈگمگا کر گرتے دیکھنا اب معمول کی بات بن چکی ہے۔ جیسے ہی کوئی شخص ہمارے سامنے کھڑے کھڑے گر پڑتا ہے تو ہم فورا کہتے ہیں"لو یہ بھی بھوک کا شکار ہوا"۔ ننھے بچے کیمپ میں گھومتے رہتے ہیں اور کھانے کے قابل انہیں جو چیز بھی ملتی ہے اٹھا کرکھا لیتےہیں۔ چونکہ کیمپ میں کھانے کو اور کچھ نہیں ہے اس لیے اب ہم لوگ جانوروں کی طرح گھاس پھوس کھا کر اپنی سانسیں بحال رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کیمپ کےاندرکی حالت زاربیان کرتے ہوئے ام احمد کا کہنا تھا کہ اب ہم میں سے کوئی شخص دوسرے سے مدد نہیں مانگتا، کیونکہ کسی کے پاس دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ انٹرنیٹ پرہماری غربت، بھوک اور قحط کی کہانیاں چل رہی ہیں۔ عالمی امدادی اداروں سے اپیلیں بھی کی جا رہی ہیں، لیکن کسی بھی مہم کا کیمپ کے محصورین کوکوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔ ہمارے لیے اب بس صرف موت ہے اور ہم اس کا انتظار کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ یرموک کیمپ محض فلسطینی پناہ گزینوں پرمشتمل نہیں بلکہ کیمپ میں پانچ لاکھ پچاس ہزار شامی باشندے بھی مقیم ہیں۔ کیمپ کے اندر یلدا، ببیلا، بیت سحم، العسالی، الحجز الاسود، القدم اور دیگر کالونیوں کے باہر شامی فوج نے چوکیاں بنا رکھی ہیں۔ ان تمام کالونیوں میں مقامی شہری آباد ہیں۔ فوج کسی شخص کو ان چیک پوسٹوں کو عبور کرکے باہر جانے کی اجازت نہیں دیتی۔ حال ہی میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے وہاں سے فرار اختیار کرنے کی کوشش کی تھی لیکن فوج نے شہریوں پر وحشیانہ گولہ باری کرکے دسیوں افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ جو زندہ بچ گئے تھے وہ واپس چلے گئے تھے۔
یرموک کیمپ میں رونما ہونے والےانسانی المیے کی اصل تصویرسامنے لانے کے لیے انسانی حقوق کے کارکن جانوں پرکھیل کو ویڈیوز اور تصاویر حاصل کرتے ہیں۔ حال ہی میں کیمپ سے موصول ہونے والی ایک ویڈیو فوٹیج میں ایک دوشیزہ کو کیمپ کے آلام و مصائب کا نوحہ گاتے دیکھا گیا۔ایک دوسری ویڈیو میں فائرنگ سے زخمی ایک فلسطینی پناہ گزین کواٹھائے دیکھا جاسکتا ہے جولوگوں کے ہاتھ میں دم توڑ دیتا ہے۔ میڈیا اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی ان مساعی کے باوجود سات ماہ سے جاری کیمپ کا محاصرہ توڑنے میں عالمی برادری اور کیمپ کے شہریوں کو ناکامی کا سامنا ہے۔
سوشل میڈیا، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بھی مہمات جاری ہیں۔ حال ہی میں فلسطین کے 60 ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلوں نے یرموک کیمپ کے حوالے سے خصوصی نشریات پیش کیں اور عالمی برادری سے فوری مدد اور مداخلت کی پر زور اپیلیں کی گئیں۔
یرموک پناہ گزین کیمپ کی داستان غم اور آلام مصائب اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کا احاطہ کرنا بھی مشکل ہے۔ کیمپ کی پریشان کن صورت حال بالخصوص بھوک و افلاس کا اندازہ لگانے کے لیے اتنا کافی ہے کہ محصورین مردہ کتے اور بلیاں کھانے پر مجبور ہیں۔ گذشتہ اکتوبرمیں یہ خبریں آئی تھیں کہ یرموک کیمپ کے محصورین کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں اور وہ کتےاور بلیوں کا گوشت کھانے پر مجبور ہیں۔ سات ماہ سے بجلی اور پانی کی سپلائی بھی بند ہے۔ پانی کی کمی برف باری اور بارشوں نے کسی حد تک پوری کی ہے مگرخوراک اورادویہ کے قحط نے کیمپ میں اکیسویں صدی کے سب سے بڑے انسانی المیے کو جنم دیا ہے۔
تین ماہ قبل شامی حکومت نے کیمپ کے محصورین کو دبانے کے لیے ایک نئی مہم شروع کی تھی جس میں انہیں کہا گیا تھا کہ ہمارے سامنے جھک جاؤ یا موت کو گلے لگا لو۔ ایسے لگ رہا ہے کہ محصورین نے بشارالاسد کے ظالمانہ نظام کی اطاعت قبول کرنے پرموت کوترجیح دے رکھی ہے۔ وہ روزمرہ کی بنیاد پر جانیں تو دے رہے ہیں مگرحکومت کے سامنے جھکے نہیں ہیں۔