.

ڈاکٹر مرسی اور سیکولرسٹوں کے خلاف نئے کیس میں فرد جرم عاید

25 مدعاعلیہان کو توہین عدالت کے مقدمے میں تین،تین سال قید کا سامنا ہوسکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے پراسیکیوٹرز نے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی اور لبرل کارکنان سمیت چوبیس افراد کے خلاف عدلیہ کی توہین کے الزام میں فرد جرم عاید کردی ہے اور ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔

ڈاکٹر مرسی کے خلاف اس سے پہلے مختلف الزامات کے تحت تین مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ان میں اپنے مخالفین کو قتل کرنے کی شہ دینے ،غیر ملکی گروپوں کے ساتھ مل کر سازش کرنے اور جیل توڑنے کے الزامات پر مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ان تینوں کیسوں میں انھیں موت کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

اب تک ان کے خلاف صرف 2011ء میں جیل توڑنے کے مقدمے کی سماعت ہی شروع ہوسکی ہے۔یہ سماعت 28 جنوری کو دوبارہ ہوگی۔اب عدلیہ کی بے توقیری کے الزام میں ان کے علاوہ جن نمایاں شخصیات کے خلاف فرد جرم عاید کی گئی ہے،ان میں پارلیمان کے سابق ارکان عمروحمزاوی اور مصطفیٰ النجار،انسانی حقوق کے علمبردار عامر سلیم اور علا عبدالفتاح اور ٹی وی شخصیت توفیق عکاشہ شامل ہیں۔علا عبدالفتاح نومبر 2013ء سے گرفتار ہیں اور ان کے خلاف بغیر اجازت احتجاجی مظاہرے کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

ان شخصیات سمیت تمام پچیس مدعاعلیہان کو عدلیہ کی بے توقیری کے الزام میں تین تین سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے لیکن اب ایک نئی مشکل یہ آن پڑی ہے کہ مصر کے حال ہی میں منظور کردہ آئین میں توہین عدالت کے مقدمات میں قید کی سزاؤں کی ممانعت کی گئی ہے۔

مصر کے ایک معروف وکیل احمد سیف کا کہنا ہے کہ ''ان مدعاعلیہان کے خلاف عاید فرد الزام اب نئے آئین کا ایک امتحان ہے اور اس نے معاشرے کو تضادات کا شکار کردیا ہے کیونکہ نئے آئین میں ایک دفعہ توہین عدالت کے موجودہ قانون کے برعکس ہے۔اب ہم کیا کریں گے؟''