.

معزول صدر مرسی کی سخت حفاظتی انتظامات میں عدالت میں پیشی

محمد مرسی پہلی مرتبہ ملزموں کا مخصوص لباس پہن کر عدالت آئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معزول صدر محمد مرسی کو سکیورٹی حکام نے غیر معمولی حفاظتی بندوبست میں عدالت کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ جہاں وہ 3 جولائی 2013 کو اپنی معزولی کے بعد عاید کیے گئے جیل توڑنے کے الزام کا سامنا کر رہے ہیں۔

محمد مرسی مطلق العنان حکمران حسنی مبارک کے خلاف عوامی تحریک کے نتیجے میں 30 سالہ اقتدار سے الگ ہونے کے بعد پہلے منتخب مصری صدر کے طور پر سامنے آئے تھے۔

منگل کے روز معزول صدر کو اخوان السلمون کے کارکنوں کے آمنے سامنے سے بچانے کیلیے سکیورٹی فورسز انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے عدالت پیش کرنے کیلیے لے کر آئیں۔ جبکہ ان کے ساتھ مقدمے کا سامنا کرنے والے 130 ملزمان کو جیل کی خصوصی گاڑیوں پر عدالت منتقل کیا گیا۔

منگل کے روز محمد مرسی عدالت میں پیش ہوئے تو انہوں نے سفید لباس زیب تن کر رکھا تھا جسے پہننے سے انہوں نے اپنی پہلی پیشی کے موقع پر انکار کر دیا تھا۔ واضح رہے مصر کے قانون کے مطابق ہر ملزم کیلیے عدالتی ٹرائل کے دوران مخصوص سفید لباس پہننا ضروری ہوتا ہے۔

معزول صدر کی اس دوسری پیشی کے موقع پر ہونے والی عدالتی کارروائی کو مصر کے سرکاری ٹی وی نے بطور خاص براہ راست نشر کیا۔ آخری اطلاعات تک مقدمے کی سماعت کے دوران کو ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

معزول صدر اور ان کے ساتھی اخوانی کارکنوں پر الزام ہے کہ انہوں نے 28 جنوری 2011 کو حسنی مبارک کے خلاف عوامی بغاوت کے دوران جیل توڑ کر قیدیوں کو رہا کرا لیا تھا۔ پراسیکیوٹر نے مرسی پر الزام لگایا ہے کہ جیل سے نکلنے والے قیدیوں پر اخوان کے کارکنوں نے حملہ کر دیا تھا۔

دوسری طرف فلسطینی اور لبنانی عسکریت پسند گروپوں سے متعلق قیدیوں کو چھڑا لے جایا گیا تھا۔ ایک ماہر قانون کا کہنا ہے کہ مقدمہ معزول صدر مرسی اور اخوان المسلمون کو بدنام کرنے کیلیے بنایا گیا ہے۔ منگل کے روز مرسی کی عدالت میں اب تک کی دوسری پیشی ہے۔

اس سے پہلے انہیں عدالت میں پیش کیا گیا تو انہوں نے اپنے آئینی اور قانونی صدر ہونے پر اصرار کیا تھا۔ آج جب انہیں پیش کیا گیا تو اتفاق سے فوج کے سربراہ اور ایک روز قبل فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی پانے والے جنرل عبدالفتاح السیسی کو فوج کی طرف سے صدارتی امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔