.

لبنانی فوج کوعلوی لیڈر کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے الٹی میٹم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے شمالی شہر طرابلس کے مکینوں نے فوج کو علوی جماعت کے ایک سینیر عہدے دار کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے جمعرات کو صرف ایک گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔

العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق فوجی قاتلوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو پھر مکینوں نے جھڑپوں میں شدت کی دھمکی دی ہے۔اس شہر میں پہلے ہی اہل سنت اور علویوں میں جھڑپ میں ایک شخص ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔

قبل ازیں آج صبح طرابلس میں نقاب پوش نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے علوی جماعت کے سینیر عہدے دار عبدالرحمان ضیاب کو قتل کردیا تھا۔مقتول اس جماعت کے عسکری امور کے انچارج تھے اور وہ طرابلس میں اگست 2013ء میں ایک مسجد میں دو بم دھماکوں کے شُبے میں گرفتار یوسف ضیاب کے والد تھے۔ان بم دھماکوں میں پینتالیس افراد مارے گئے تھے۔

عبدالرحمان ضیاب کے قتل کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح شہر میں پھیل گئی اور علویوں اور اہل سنت کے درمیان باب التبانہ میں جھڑپیں شروع ہوگئیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق علاقے میں کشیدگی کے بعد مقامی اسکول اور دکانیں بند کردی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ شام میں جاری کشیدگی کی وجہ سے ماضی میں بھی طرابلس میں اہل سنت اور علوی اہل تشیع کے درمیان متعدد مرتبہ جھڑپیں ہوچکی ہیں۔علوی اپنے ہم مذہب شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کررہے ہیں جبکہ اہل سنت شامی باغیوں کے حامی ہیں۔

طرابلس میں علوی عہدے دارکے قتل سے ایک روز قبل ہی دارالحکومت بیروت کے علاقے بئیرحسن میں بم دھماکے میں چھے افراد ہلاک اور ایک سو تیس زخمی ہوگئے تھے۔القاعدہ سے وابستہ تنظیم عبداللہ عزام بریگیڈز نے بیروت میں اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔

یادرہے کہ جولائی 2013ء کے بعد سے بیروت کے جنوبی علاقے میں سات بم دھماکے ہوچکے ہیں۔یہ علاقہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ان بم حملوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شام میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے شانہ بشانہ شامی باغیوں کے خلاف جنگ کے ردعمل میں کیے جارہے ہیں۔

شام کی سرکاری فوج سے برسرپیکار القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کی لبنانی شاخ نے بھی بیروت میں ماضی میں ہونے والے بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔عبداللہ عزام بریگیڈز نے شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں حزب اللہ کے جنگ میں شریک رہنے کی صورت میں لبنان میں مزید بم حملوں کی دھمکی دی تھی۔