.

مصر: فٹ بال شائقین اور پولیس کے درمیان جھڑپ، 30 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے فٹ بال کلب الاہلی کے حامیوں اور پولیس کے درمیان قاہرہ کے بین الاقوامی اسٹیڈیم میں تیونس کے ایک فٹ بال کلب کے ساتھ میچ کے دوران جھڑپ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم تیس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

وزارت داخلہ نے جمعہ کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''میچ کے اختتام پر الاہلی کے بعض حامیوں نے پولیس کے خلاف نعرے بازی شروع کردی،ان کی طرف پانی کی بوتلیں اور کرسیاں اٹھا کر پھینکیں''۔

بیان کے مطابق :''بعض فٹ بال شائقین نے واپسی پر پولیس کی ایک گاڑی اور دو سویلین کاروں کو آگ لگادی۔جھڑپوں کے نتیجے میں پندرہ پولیس ریکروٹس اور دس افسر زخمی ہوگئے۔سکیورٹی فورسز نے صورت حال پر قابو پا لیا ہے اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے''۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ مصری فٹ بال کلب کی تیونس کی سفاکسئین کلب کے خلاف افریقی سپر کپ کے میچ میں دوتین سے کامیابی کے بعد شروع ہوئی تھی۔وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق اس واقعہ کے بعد ''اجتماع پر پابندی کے خاتمے کے فیصلے پر نظرثانی کی جارہی ہے''۔

یو ٹیوب پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں الاہلی کے حامی شائقین، جو عام طور پر''الٹراس'' کے نام سے مشہور ہیں،ایک پولیس افسر کو لاٹھی سے تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

بعض عینی شاہدین نے سوشل میڈیا پر پولیس اور شائقین فٹ بال کے درمیان جھڑپ کی کچھ تفصیل پوسٹ کی ہے۔ان کے مطابق جھڑپوں میں پانچ الٹراس اور چھے سکیورٹی افسر زخمی ہوئے ہیں۔انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ''الٹراس اسٹیڈیم میں وزارت داخلہ اور سابق وزیرداخلہ حبیب العدلی کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے۔اس پر سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔ایک اور مصری نے ٹویٹر پر لکھا کہ پولیس اہلکار صلاح سالم میں ہر اس شخص کو گرفتار کررہے تھے جس نے الاہلی کی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی''۔