.

لبنان: النصرہ فرنٹ نے الھرمل دھماکے کی ذ٘مہ داری قبول کر لی

خودکش حملے میں دو فوجیوں سمیت تین افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں سرگرم النصرہ محاذ نے شمالی وادی بقاع کے الھرمل شہر میں ہونے والے کار بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ یہ کار بم دھماکا ہفتے کے روز ایک فوجی ناکے کے قریب ہوا تھا جس میں دو فوجیوں سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

دھماکے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے لبنانی وزیر اعظم تمام سلام نے قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ باہمی اتحاد اور یگانگت سے دہشت گردی کی تمام صورتوں کو ناکام بنائیں۔ لبنانی ذرائع ابلاغ اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق الھرمل میں ہونے والے کار بم دھماکے میں لبنانی فوج کا ایک افسر اور سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ بم دھماکے میں استعمال ہونے والی فور ویل گاڑی کو ایک خودکش بمبار چلا رہا تھا اور جونہی گاڑی فوجی ناکے پر رکی تو اس سے خود کا دھماکے سے اڑا لیا۔ حملے کے بعد جائے حادثہ کے قریب بارود سے بھری دوسری گاڑی کی موجودگی کی افواہ پر فوجی حکام نے قریب موجود گاڑیوں کی تفصیلی تلاشی لی۔ جائے حادثہ سے موصول ہونے والی ابتدائی تصاویر میں فوجی چوکی سے آگ کے شعلے بلند ہوتے دیکھے گئے، جنہیں فائر بریگیڈ اور شہری دفاع کے محکمے کے اہلکار بجھانے کی کوشش کرتے رہے۔

دوادی بقاع میں الھرمل شہر شام اور ایران نواز شیعہ مسلک حزب اللہ ملیشیا کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ شام میں بشار الاسد کی حامی فوج اور حکومت مخالف سیاسی حلقوں کے درمیان لڑائی کے بعد سے الھرمل شہر متعدد بم حملوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حالیہ چند مہینوں کے دوران مسلح حملوں میں لبنانی شیعہ ملیشیا کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حزب اللہ کھلے عام شام میں جاری تنازع میں اپنا سیاسی اور عسکری وزن بشار الاسد حکومت کے پلڑے میں ڈال رہی ہے۔