.

شام:النصرۃ محاذ کا''داعش''کو جنگ بندی کے لیے الٹی میٹم

علماء کی ثالثی قبول نہ کرنے پر داعش کو شام وعراق میں تہس نہس کرنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم کے سربراہ نے متحارب اسلامی جنگجوؤں پر مشتمل تنظیم دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کو باہمی لڑائی کے خاتمے کی غرض سے ثالثی قبول کرنے کے لیے پانچ دن کا وقت دیا ہے۔دوسری صورت میں جنگ کی دھمکی دی ہے جس میں اس جنگجو گروپ کا خاتمہ کردیا جائے گا۔

النصرۃ محاذ کے سربراہ ابو محمد الجولانی کا یہ دھمکی آمیز آڈیو پیغام منگل کو انٹرنیٹ پر پوسٹ کیا گیا ہے۔انھوں نے دولت اسلامی عراق وشام سے کہا ہے کہ وہ شام کے مختلف علاقوں میں گذشتہ ایک سال سے جاری محاذ آرائی کے خاتمے کے لیے علماء کی ثالثی کو قبول کرے۔

ایک اسلامی ویب سائٹ پر جاری کردہ اس آڈیو ٹیپ میں جولانی نے داعش سے کہا ہے کہ ''ہم اس ریکارڈنگ کی تاریخ سے پانچ روز تک آپ کے باضابطہ جواب کا انتظار کریں گے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اگر آپ نے اللہ کے حکم کو ایک مرتبہ پھر مسترد کردیا اور اُمہ (مسلم امت) کے خلاف اپنے طاعون کے خاتمے کے لیے کچھ نہ کیا تو پھر اُمہ اس جاہلانہ نظریے کے خلاف حملے کا آغاز کرے گی اور اس کا قلمع قمع کردے گی حتیٰ کہ عراق سے بھی اس کا استیصال کردے گی''۔

واضح رہے کہ شام کے شمالی صوبوں میں خاص طور پر داعش اور دوسرے باغی جنگجوؤں کے درمیان جنوری کے آغاز سے باہمی لڑائی جاری ہے اور دونوں گروپوں کی جانب سے ایک دوسرے پر تباہ کن بم حملے کیے گئے ہیں۔ النصرۃ محاذ اور دوسری باغی تنظیموں نے حلب اور ادلب سے داعش کے جنگجوؤں کو ان کے مضبوط ٹھکانوں سے نکال باہر کیا ہے۔

اس دوران ابو محمد جولانی بہ ذات خود داعش کے النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں پر حملوں اور شدید کشیدگی کے باوجود براہ راست محاذآرائی سے گریز کرتے رہے ہیں۔النصرۃ محاذ القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری سے وفاداری کا اعلان کرچکا ہے اور داعش نے بھی القاعدہ سے وابستگی کا متعدد مرتبہ اظہار کیا ہے لیکن حالیہ ہفتوں کے دوران القاعدہ کے سربراہ نے داعش سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔

ابو محمد جولانی نے اپنے بیان میں داعش اور مغرب کی حمایت یافتہ شامی باغیوں کی سپریم فوجی کمان اور حزب اختلاف کے قومی اتحاد کے درمیان فرق کیا ہے اور موخرالذکر دونوں گروپوں کو بے عقیدہ قراردیا ہے۔

شامی صدر بشارالاسد کی فوج سے برسرپیکار مختلف جنگجو گروپوں کی جنوری کے آغاز سے شام کے تین صوبوں حلب ،ادلب اور الرقہ میں داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی جاری ہے اور اس لڑائی میں پندرہ سو سے دوہزار کے درمیان افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ متحارب گروہ جھڑپوں میں کام آنے والے اپنے اپنے جنگجوؤں کی ہلاکتیں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔انھوں نے ایک دوسرے کے متعدد مسلح افراد کو گرفتار بھی کر رکھا ہے۔

العربیہ نیوز چینل نے گذشتہ ماہ دولت اسلامی عراق وشام سے تعلق رکھنے والے گرفتار جنگجوؤں کی ایک ویڈیو نشر کی تھی جس میں انھیں شامی صدر بشارالاسد کی حکومت سے روابط کا اعتراف کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق القاعدہ سے وابستہ گروپ داعش نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں سات خفیہ جیلیں قائم کررکھی تھیں۔وہاں چوری ،سگریٹ نوشی اور زنا جیسے جرائم میں ملوث ملزموں کو قید رکھا جاتا تھا۔اسلامی جنگجوؤں پر الزام عاید کیا گیا تھا کہ وہ سمری ٹرائل کے بعد لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے،کوڑے لگا رہے تھے اور فائرنگ سے قتل کررہے تھے۔

اس جنگجو گروپ پر انسانی حقوق کے کارکنان ،صحافیوں ،مذہبی لیڈروں اور صدر بشارالاسد کے حامیوں کو اغوا کرنے کا بھی الزام عاید کیا گیا ہے لیکن ایسے افراد کو بالعموم تاوان کے بدلے میں یا قیدیوں کے ساتھ تبادلے میں رہا کردیا جاتا ہے اور ان کا اتا پتا معلوم ہوتا ہے لیکن اب اس گروپ نے بھی شامی فورسز کی طرح اپنے مخالفین یا مزعومہ ''ملزموں''کو غائب کرنا شروع کردیا ہے۔