.

ریاض، یو اے ای اور بحرین کے سفرا کی قطر سے واپسی

قطر، خلیج تعاون کونسل کے اصولوں کی پاسداری نہیں کر رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے۔ سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق تینوں ملکوں نے اپنی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے پیش نظر یہ اقدام کیا ہے۔

سفیروں کو واپس بلانے والے ملکوں نے قطر پر الزام لگایا ہے کہ قطر چھ رکنی گلف کو آپریشن کونسل کے طے شدہ اصولوں کے ساتھ وابستگی رکھنے والا ملک نہیں ہے۔ جی سی سی کی رکن تین ریاستوں کی طرف سے کیے گئے اس فیصلے کو عرب میڈیا نے ایک طوفانی فیصلہ قرار دیا ہے۔

پچھلے ہی سال جی سی سی کے حوالے سے تعاون اور اطلاعات کے تبادلے کے سلسلے میں ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، اس معاہدے کے تحت قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف مشترکہ کوششوں کیلیے بھی کہا گیا تھا۔

تین ریاستوں کی طرف سے یہ فیصلہ ابو ظہبی کی طرف سے قطری سفیر کو طلب کیے جانے کے ایک ماہ بعد کیا گیا ہے۔ قطری سفیر کی یہ طلبی دوحا میں مقیم دینی سکالر علامہ یوسف القرضاوی کے ایک بیان پر کی گئی تھی۔ امارات اپنے اور مصری شہریت کے حامل 30 افراد کو تی ماہ سے پانچ سال کیلیے جیل بھی بھیج چکی ہے۔

واضح رہے قطر نے حالیہ عرصے میں نہ صرف مصر اور اخوان المسلمون کے بارے میں عرب حکومتوں کے مجموعی موقف سر علیحدگی اختیا کر رکھی ہے بلکہ ایران اور شام کے معاملات پر بھی اس کی سوچ مختلف ہوتی جا رہی ہے۔ جیسا کہ پچھلے ماہ قطر کے وزیر خارجہ ایران کا دورہ بھی کیا ہے۔