.

کویت اور دوسرے خلیجی ملکوں سے اخوان کو مدد مل رہی ہے: خلفان

"مرکزی بنک کویت سے اخوان کو رقوم منتقل ہوتی رہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی کے ڈپٹی چیف پولیس چیف ضاحی خلفان نے کہا ہے کہ اخوان المسلمون کو خلیجی ملکوں بالخصوص کویت کے اندر سے مدد مل رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دیے جانے کے بعد کویتی اخوانی کارکن آزادانہ پڑوسی ملکوں میں سفر نہیں کرسکتے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ٹیوٹر" پر شائع ایک بیان میں ضاحی خلفان کا کہنا ہے خلیجی ممالک کے میں اخوانیوں کی مالی مدد کرنے والوں کے خلاف مصر میں مقدمات قائم کیے جانے چاہئیں۔ نیز ان کی تفصیلات لبنان کو بھی فراہم کی جانی چاہئیں کیونکہ اخوانی لبنان ہی کو اپنا متبادل ٹھکانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خلفان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کویتی صحافی محمد صالح السبتی نے "العربیہ" نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کویت میں اخوان المسلمون کے وفاداروں کی موجودگی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ بات کویت کی حکومت بھی جانتی ہے اور خود اخوان کی مرکزی قیادت بھی کویت میں اپنے نیٹ ورک کی موجودگی کا اعتراف کرتی ہے۔

محمد صالح کا کہنا تھا کہ اخوان المسلمون کے رہ نما اپنی تقریروں اور کتابوں میں بتا چکے ہیں کہ خلیجی ممالک کے اندر بالخصوص کویت سے مالی مدد مل رہی ہے۔ دبئی پولیس کے ڈپتی چیف نے جو کچھ کہا ہے اس پر کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی ہیں۔ اخوان المسلمون کے رہ نما نہایت فخر کے ساتھ یہ کہتے رہے ہیں کہ کویت انہیں مالی مدد فراہم کرنے والا اہم خلیجی ملک ہے۔

صالح السبتی کا کہنا تھا کہ کویت میں اخوانی افکار کی تشہیر روکنے میں کویت حکومت کو اپنی ناکامی تسلیم کرنی چاہیے۔ کویت کے ذرائع ابلاغ کی جانب سے اخوانیوں کے گمراہ نظریات کے فروغ پر حکومت کو ہمیشہ خبردار کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کویت کے مرکزی بنک کے ذریعے اخوان المسلمون کو رقوم کو لین دین کیا جاتا رہا ہے لیکن حکومت نے اخوان المسلمون کے مالی سوتے خشک کرنے کے لیے کوئی موثر قانون سازی نہیں کی ہے۔