.

اخوان المسلمون ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے: بحرین

اخوان بارے یو اےای اور سعودی عرب کے موقف کی حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست بحرین کے وزیر خارجہ الشیخ خالد بن احمد آل خلیفہ نے کہا ہے کہ اخوان المسلمون ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو منامہ کی سلامتی اور استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اخوانی فکر کے خلاف سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر کے موقف کے حامی ہیں۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سایٹ "ٹیوٹر" پر جاری ایک بیان میں الشیخ خالد بن احمد نے کہا کہ اخوان المسلمون کے مقاصد کی روک تھام کے لیے برادر ملکوں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ،مصر اور منامہ کے موقف میں مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اخوان المسلمون کی دہشت گردانہ کارروائیوں کا انسداد ہر ملک اپنے مخصوص طریقے اور قانون کے مطابق کر رہا ہے۔ جن عرب ممالک نے اخوان کو دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندیاں عائد کی ہیں انہوں نے صائب فیصلے کیے ہیں کیونکہ تنظیم ان ملکوں کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی تھی۔ بحرین بھی سیکیورٹی ریسک بننے والی اخوان المسلمون سے اسی طرح آہنی ہاتھوں سے نمٹے گا جس طرح دوسرے دہشت گرد گروپوں سے ڈیل کر رہا ہے۔

الشیخ خالد بن محمد نے کہا کہ متحدہ عرب امارات، مصر اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے گروپ براہ راست بحرین کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ جو ان ملکوں کا دشمن ہے وہ ہمارا بھی دشمن ہے۔

اپنے دورہ پاکستان کے دوران اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں اخوان کے بارے میں دیے گئے اپنے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا نے اسلام آباد نیوز کانفرنس میں میرا بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔ میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ اخوان المسلمون دہشت گرد تنظیم نہیں ہے بلکہ میرے الفاظ واضح تھے کہ ہر ملک کا اخوان المسلمون سے نمٹنے کا اپنا ایک مخصوص طریقہ کار ہے۔

بحرینی وزیر خارجہ نے کہا کہ میں اس کا ذمہ دار ہوں جو میں نے نیوز کانفرنس میں کہا۔ میرا ان باتوں سے کوئی تعلق نہیں جو میڈیا میں میرے نام سے منسوب کی گئیں۔ میں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ اخوان المسلمون ایک عالمی دہشت گرد تنظیم ہے لیکن اس سے نمٹنے کا ہرملک کا اپنا مخصوص قانون اور طریقہ کار ہے۔

قبل ازیں اپنے دورہ پاکستان کے دوران اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں بحرینی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اخوان المسلمون کے بارے میں سعودی عرب کے موقف کو حق بہ جانب سمجھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاض کی جانب سے اخوان کو دہشت گرد قرار دینا سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق معاملہ ہے۔ اخوان پر پابندیاں عائد کرکے سعودی عرب نے بہتان نہیں باندھا ہے۔ اخوان ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور وہ دہشت گردی کے سہارے عنان حکومت سنبھالنا چاہتی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ دہشت گردی اور اخوان کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کو جس تعاون کی ضرورت پڑی منامہ فراہم کرنے کو تیار ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ بحرین میں موجود اخوان المسلمون کے بارے میں ان کا کیا موقف ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں موجود اخوان المسلمون قانون کی پابند جماعت ہے اور اس سے وابستہ لوگ بحرین کے شہری ہیں۔ تاہم وطن واپسی کے فوری بعد انہوں نے "قانون کے پابند" اخوانیوں کو سیکیورٹی ریسک بھی قرار دیا۔