عرب وزرائے خارجہ اجلاس، سربراہ کانفرنس کا ایجنڈا تیار

اختلافات طے کرنے کیلیے دو روزہ کانفرنس کا خصوصی سیشن ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے حالیہ سنگین مہینوں میں پیدا ہونے والے اختلافات کے باوجود رواں ہفتے میں متوقع سربراہ کانفرنس کیلیے متفقہ ایجنڈا تیار کر لیا ہے۔ دو روزہ عرب سربراہ کانفرنس منگل کے روز سے متوقع ہے۔

عراق کے وزیر خارجہ ہوشیار زبیری کے مطابق عرب لیگ کے بعض ارکان کے درمیان تعلقات میں آ نے والے رخنے کے بعد پہلی سربراہی کانفرنس کیلیے میزبان ملک کویت نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران قطر سے سفیروں کے واپس بلائے جانے کا معاملہ سرے سے زیر بحث آیا ہے اور نہ ہی کسی متنازعہ ایشو پر بات ہوئی ہے، اس لیے اجلاس کا مجموعی ماحول بہت مثبت رہا ہے۔''

واضح رہے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر کی مصری سیاسی جماعت اخوان المسلمون کی حمایت کی پالیسی پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے سے دوحہ سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے۔ اس سے پہلے مصر نے پچھلے دسمبر میں اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دیا تھا، جبکہ رواں ماہ کے دوران سعودی عرب نے بھی دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔

الجزائر کے وزیر خارجہ رمتانے لامامرا کا وزرائے خارجہ کے اجلاس کے حوالے سے کہنا تھا '' سارے ایشوز باضابطہ اجلاس میں زیر بحث نہیں آئے، اس لیے بعض ایشوز سائیڈ لائنز پر غیر رسمی انداز سے زیر بحث آئے ہیں۔ ''

عرب لیگ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے سیاسی امور فضیل جواد کے مطابق عرب سربراہ کانفرنس کے دوران اختلافات کو طے کرنے کیلیے ایک خصوصی سیشن کا انعقاد ہو گا۔ مراکش کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور صلاح الدین میزوار کا وزرائے خارجہ کانفرنس کے حوالے سے کہنا تھا '' وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی سطح پر جاری دہشت گردی سے نمٹنے پر غور کیا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا اخوان المسلمون یا عرب دنیا کے درمیان دہشت گردی سے نمٹنے کی مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال نہیں ہوا ہے۔ دوسری جانب عراقی وزیر خارجہ نے کہا ایجنڈا متفقہ طور پر منظور کیا گیا ہے۔

خیال رہے شامی اپوزیشن اتحاد کے سربراہ احمد الجربا کو بھی عرب لیگ سربراہی کانفرنس سے خطاب کیلیے دعوت دی گئی ہے لیکن شامی اپوزیشن کو عرب لیگ کی رکنیت حاصل کرنے کیلیے ابھی بعض شرائط پوری کرنا ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں