مصر کا عرب لیگ سے اخوان مخالف کارروائی کا مطالبہ
تنظیم کے رکن ممالک انسداد دہشت گردی معاہدے پر عمل درآمد کریں:وزارت خارجہ
مصر نے عرب لیگ کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی معاہدے پر عمل درآمد کریں تاکہ اخوان المسلمون کے لیے فنڈز کی فراہمی اور حمایت کو روکا جاسکے۔
مصر نے عرب لیگ کے رکن ممالک سے اخوان المسلمون سے وابستہ مطلوب اسلام پسندوں کو بھی حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مصری وزارت خارجہ کے ترجمان بدر بن عبداللتی نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ عرب لیگ کے جن ممالک نے 1998ء میں انسداد دہشت گردی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے،انھیں اس کا اخوان المسلمون کے خلاف نفاذ کرنا چاہیے۔
ترجمان نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''تنظیم کے رکن ممالک اخوان المسلمون کو مالی رقوم کی فراہمی کو روکیں اور اس کے مفروروں کو مصر کے حوالے کریں''۔
واضح رہے کہ عرب لیگ کے بائیس رکن ممالک میں سے اٹھارہ نے دہشت گردی کے خلاف تعاون سے متعلق اس معاہدے کی توثیق کی تھی۔عرب لیگ کا کہنا ہے کہ اس نے مصر کی جانب سے اخوان المسلمون کو دہشت گرد قراردینے کے فیصلے سے متعلق رکن ممالک کو آگاہ کردیا ہے۔
مصر کی مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت نے گذشتہ بدھ کو اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قراردے دیا تھا۔اس حکم نامے کے تحت اخوان کے حق میں ریلیوں اور جلسے جلوسوں پر بھی پابندی عاید کردی گئی ہے لیکن اس کے باوجود اخوان اور برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامی طلبہ قاہرہ میں جامعہ الازہر اور دوسری جامعات میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔
مصری سکیورٹی فورسز نے دہشت گرد قرار دیے جانے کے بعد اخوان کے ڈیڑھ سو سے زیادہ ارکان اور حامیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔انھیں حکومت کی جانب سے اخوان پر پابندی اور دہشت گرد قراردینے کے اقدام کے تحت پانچ سال تک قید کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔