.

مصر:پولیس اور اسلام پسندوں میں جھڑپیں، تین افراد ہلاک

سابق آرمی چیف عبدالفتاح السیسی کے صدارتی انتخاب لڑنے کے خلاف مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اسلام پسندوں کے احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپ میں ایک خاتون صحافیہ سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔اسلام پسند مستعفی آرمی چیف فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے صدارتی انتخاب لڑنے کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔

مصری حکام کے مطابق ایک نجی اخبار الدستور سے وابستہ صحافیہ مائدہ اشرف قاہرہ کے شمالی علاقے عین الشمس میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کی کوریج کررہی تھیں۔اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ شروع ہوگئی اور وہ سر میں گولی لگنے سے دم توڑ گئی ہیں۔اسی جگہ تشدد میں دو اور افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں نے آج نماز جمعہ کے بعد قاہرہ اور ملک کے دوسرے شہروں میں عبدالفتاح السیسی کے صدارتی انتخاب لڑنے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔اخوان المسلمون اور اس کی حامی جماعتوں کے وابستگان مصری فورسز کی جانب اپنے خلاف کریک ڈاؤن کے باوجود گذشتہ سال جولائی میں ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی اور ان کے اقدامات کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے چلے آرہے ہیں۔

ان احتجاجی مظاہروں کے دوران سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ان میں صحافتی کارکنان بھی شامل ہیں۔الدستور نے اپنی کارکن مائدہ اشرف کی فائرنگ سے ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔کمیٹی برائے تحفظ صحافیان کی رپورٹ کے مطابق اس صحافیہ کی اس طرح ناگہانی موت سے قبل مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف 2011ء میں عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد سے گذشتہ قریباً سوا تین سال کے عرصے میں نو صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیتے ہوئے مارے جاچکے ہیں۔ان میں زیادہ تر مظاہروں کی کوریج کے دوران نامعلوم سمت سے آنے والی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں۔