بحرین : جہادیوں کو واپس آنے کیلیے 2 ہفتوں کی مہلت

بعد میں دہشت گرد قرار دے دیا جائے گا: وزارت داخلہ کا حکمنامہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بحرین نے اپنے ان شہریوں کو دو ہفتوں کے دوران واپس آنے کی مہلت دی ہے جو دوسرے ملکوں میں جہادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ بحرین حکومت نے خبردار کیا ہے کہ بیرون ملک بحرینی جہادیوں نے ایسا نہ کیا تو ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ '' بحرین کے وہ شہری جو کسی بھی جنگی علاقے میں جہاد کے نام پر موجود ہیں انہیں ہر صورت دو ہفتوں میں واپس آنا ہو گا، جو اس عرصے میں واپس نہیں آ سکیں گے ان کے ساتھ ملکی قانون کے مطابق بطور دہشت گرد سلوک کیا جائے گا۔''

اس صورت میں ملنے والی سزا کے تحت وہ بحرینی شہریت سے بھی محروم کیے جا سکتے ہیں۔ ماہ فروری کے اواخر میں بحرین کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا تھا کہ اس سلسلے میں قانون کو مزید سخت کیا جا رہا ہے اور اس قانون کا اطلاق شام میں لڑنے والوں کے خلاف بھی ہو گا۔

واضح رہے سعودی عرب کا پڑوسی بحرین امریکا کے پانچویں بحری بیڑے کا ہیڈ کوارٹر ہے، اور اپنے ہمسایہ ملک سعودی عرب کے نقش قدم پر ہے۔ سعودی عرب نے ایک ماہ قبل اعلان کیا تھا کہ باہر کے ملکوں میں دہشت گرد گروپوں کی طرف سے لڑنے والے اس کے شہریوں کو 20 سال قید کی سزا دی جا سکے گی۔

سعودی عرب نے 7 مارچ کو مصری جماعت اخوان المسلمون کے بارے میں بھی اپنا موقف سخت کرتے ہوئے اسے دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔ جبکہ شام کے دو جہادی گروپوں کو بھی دہشت گرد قرار دیا اور اپنے شہریوں کو حکم دیا کہ وہ 15 دنوں میں واپس آ جائیں بصورت دیگر انہیں جیل بھگتنا پڑے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں