"عراق میں عسکریت پسندی شامی خانہ جنگی سے بڑھی"

شامی لڑائی کے اثرات دوسرے ملکوں تک پھیل رہے ہیں: یو این

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں عسکریت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شامی خانہ جنگی نے شدت پسند تنظیم القاعدہ کو عراق میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے کا موقع فراہم کیا۔ اب عراق اور شام میں سرگرم القاعدہ نواز گروپ نہ صرف باہم مربوط ہو گئے بلکہ وہ آزادانہ طور پر سرحد پار کارروائیاں کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے القاعدہ کے بڑھتے اثر و نفوذ کے حوالے سے یہ پہلا انتباہ نہیں بلکہ ماضی میں بھی عالمی ادارہ متعدد مرتبہ خبردار کر چکا ہے کہ شام کی خانہ جنگی خطے میں مذہبی منافرت کو ہوا دینے اور جنگجوؤں کی سرگرمیوں کو اپنا دائرہ بڑھانے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔ ماضی میں بھی عسکریت پسند گروپ سال ہا سال سے ایک دوسرے کے خلاف مذہبی جنگیں لڑتے رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراق میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نیکولائے ملاڈینوف نے سلامتی کونسل کے اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ شام کی خانہ جنگی سے خطے میں فرقہ وارانہ فسادات کی جنگ وسعت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ شامی جنگ کا دائرہ ملک کے تک محدود نہیں رہا ہے بلکہ شدت پسند گروپ بیرون ملک بھی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ شام، عسکریت پسندوں کا بیس کیمپ بنتا جا رہا ہے اور وہاں موجود شدت پسنوں کے دوسرے ملکوں میں سرگرم ہم خیال عسکریت پسندوں کے ساتھ روابط بڑھنے لگے ہیں۔

مبصرین کے خیال میں اقوام متحدہ کا شام کی خانہ جنگی اور عسکریت پسندی میں اضافے کا واویلا بے جا نہیں کیونکہ القاعدہ کے زیر اثر تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] نے شام کے بعض علاقوں میں سیاسی خلاء سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گلی محلوں کی سطح پر اپنی 'حکومت' قائم کر رکھی ہے اور مرضی کی شریعت اور قوانین نافذ کیے جا رہے ہیں۔ شام کے شہر الرقہ اور دیر الزور "داعش" کے جنگجوؤں کے زیر کنڑول ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ جنگجو آزادانہ طور پر عراق اور شام کی سرحدیں عبور کرتے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ شام کی طرح عراق کے شہروں فلوجہ اور الرمادی میں بھی داعش سے وابستہ عسکریت پسندوں نے اپنی متوازی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔ اب بھی شام اور عراق کے درمیان پھیلا وسیع ریگستان ان جنگجوؤں کا محفوظ ٹھکانہ سمجھاجاتا ہے۔ عراق میں القاعدہ کے بڑھتے اثرو نفوذ کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ شدت پسند تنظیم نے عراقی جیلوں پر حملے کر کے 600 جنگجوؤں کو چھڑا لیا۔ عسکریت پسندوں کی کامیاب کارروائیوں سے عراقی سیکیورٹی اداروں اور حکومت کی کارکردگی مزید مشکوک ہوتی جا رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق شام اور عراق میں سرگردم تنظیم "داعش" سے وابستہ جنگجوؤں کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہے۔

سنہ 2013ء عراق میں دہشت گردی کے حوالے سے بدترین سال قرار دیا گیا ہے جس میں کم سے کم 8000 عام شہری دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے۔ رواں سال کا آغاز بھی بدترین خونی کارروائیوں سے ہوا ہے لیکن حالیہ دنوں میں عسکریت پسندی کی وارداتوں میں کچھ کمی بھی دیکھی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں