یمن: ڈرون حملے میں 15 عسکریت پسند ہلاک

حملے میں تین عام لوگ بھی جاں بحق ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے وسطی صوبہ البائدہ میں ڈرون حملہ کر کے القاعدہ سے وابستہ 15 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران تین سویلین بھی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ صوبہ البائدہ عسکریت پسندوں کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

یہ ڈرون حملہ اس وقت کیا گیا جب عسکریت پسند یمن کے جنوبی صوبہ شابوا کی طرف اپنی گاڑی پر رواں دواں تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسی دوران پاس سے گذرنے والی ایک عام گاڑی بھی نشانے کی زد میں آ گئی، جس کے نتیجے میں تین عام لوگ بھی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

واضح رہے دنیا میں واحد امریکا ایسا ملک ہے جو میزائل بردار ڈرون استعمال کر کے اپنے اہداف کو نشانہ بناتا ہے۔ اس پر اگرچہ عالمی سطح پر تنقید بھی کی جاتی ہے لیکن ماہ مارچ کے دوران یمنی صدر منصور ہادی نے یمن میں القاعدہ کیخلاف ان امریکی ڈرون حملوں کا دفاع کیا تھا۔

صدر منصور ہادی نے کہا ''القاعدہ کے خلاف ڈرون حملے غیر معمولی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ اگرچہ کچھ غلطیاں بھی ہوئی ہیں، جن کے لیے ہم معذرت خواہ ہیں۔'' پچھلے سال انتہا پسندوں کے خلاف ایک موثر مہم کے دوران درجنوں عسکریت پسند مارے گئے تھے۔ عالمی برادری ڈرونز سے سویلنز کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتی رہتی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق پچھلے سال ماہ دسمبر میں ایک شادی کی تقریب میں جانے والے 16 سویلنز ایسے ہی ایک ڈرون حملے میں جاں بحق اور دس زخمی ہو گئے تھے۔ انہیں ڈرون حملے کرنے والے امریکی عملے نے غلطی سے القاعدہ کے ساتھی سمجھ لیا تھا۔

اس واقعے کے بعد یمنی پارلیمنٹ نے ڈرون حملوں کے خلاف قرارداد منظور کی تھی۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یمنی قانون سازوں کیلیے ڈرون حملے رکوانا ممکن نہیں ہے۔ واضح رہے القاعدہ یمنی سکیورٹی فورسز پر مسلسل حملے کرتے رہتے ہیں۔ القاعدہ کے مشتبہ عسکریت پسندوں کے انہی حملوں کے دوران پچھلے منگل کے روز البائدہ کے نائب گورنر اور ایک انٹیلی جنس افسر ہلاک ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں