.

شام:الحسکہ میں بم دھماکا،داعش کا لیڈر 10 ساتھیوں سمیت ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مشرقی صوبہ الحسکہ میں ایک بم دھماکے میں اسدی فوج اور باغی جنگجوؤں کے خلاف بیک وقت برسرپیکار جہادی گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے امیر اپنے دس ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے ہیں۔

باغیوں کی ایک خبررساں ایجنسی ''مسار پریس'' نے جمعرات کو الحسکہ کے علاقے الشدادی میں بم دھماکے میں ابوالبراء اللیبی کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔انھیں کچھ عرصہ قبل ہی الحسکہ میں داعش کی شاخ کا سربراہ بنایا گیا تھا۔

مقامی قبائلیوں نے اس جنگجو گروپ کے خلاف اعلان جنگ کررکھا ہے اور دوسرے باغی جنگجو گروپ بھی اس پر شامی صدربشارالاسد کی وفادار فورسز کے ساتھ تعاون کے الزامات عاید کرچکے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق شام کے مشرقی صوبہ دیرالزور میں مقامی قبائلی داعش کے خلاف لڑائی کے لیے سیکڑوں جنگجوؤں کو بھرتی کررہے ہیں۔اس صوبے میں داعش کی القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ اور دوسری اسلامی جہادی تنظیموں کے ساتھ سرحدی قصبے ابوکمال پر قبضے کے لیے کئی ہفتے تک لڑائی جاری رہی تھی۔

گذشتہ ہفتے دیرالزور سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن نے بتایا تھا کہ النصرۃ محاذ اور اس کے اتحادی جنگجوؤں نے اپنی نئی کمک آنے کے بعد داعش کے جنگجوؤں نے ابوکمال شہر سے نکال باہر کیا ہے۔اس کے بعد سے قبائلی اس جنگجو گروپ کی جانب سے دو قصبوں السور اور مرقدہ میں نئے حملے کی توقع کررہے ہیں۔ان دونوں قصبوں میں داعش کے جنگجوؤں نے اپریل کے اوائل میں بھی حملے کیے تھے۔

واضح رہے کہ شامی باغیوں اور اسلامی جنگجوؤں نے پہلے پہل تو دولت اسلامی عراق سے تعلق رکھنے والے جہادیوں کا اسدی فوج کے خلاف جنگ میں خیرمقدم کیا تھا۔اس تنظیم میں زیادہ تر عراق اور دیگر عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے سنی جنگجو شامل ہیں۔انھوں نے شام میں جاری لڑائی میں شرکت کے بعد اس کا نام تبدیل کرکے دولت اسلامی عراق وشام رکھ لیا تھا۔

لیکن جب اس کے جنگجوؤں نے حکومت مخالف کارکنان ،باغیوں اور دوسرے جنگجو گروپوں سے تعلق رکھنے والے جہادیوں کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنانا شروع کیا تو النصرۃ محاذ اور شامی باغیوں نے ان کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے تھے اور القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری نے بھی اس سے لاتعلقی ظاہر کردی تھی۔

اس دوران داعش پر اسدی فوج کی معاونت کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا۔اب اس تنظیم کے جنگجوؤں کو النصرۃ اور دوسرے باغی گروپوں کے مقابلے میں ہزیمت اور پسپائی کا سامنا ہے اور انھیں شام کے شمالی اور شمال مشرقی شہروں اور قصبوں سے نکال باہر کیا گیا ہے۔