عراقی صدر جلال طالبانی کے حامیوں پر بم حملہ، 25 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے کرد آبادی والے ایک قصبے میں صدر جلال طالبانی کے حامیوں کی ریلی میں خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں پچیس افراد ہلاک اور تیس زخمی ہو گئے ہیں۔

بم حملے کا نشانہ بننے والے کرد شہری کردستان میں واقع قصبے خانقین میں صدر جلال طالبانی کی ایک ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد خوشی کے اظہار کے لیے جمع ہوئے تھے۔اس دوران خودکش بمبار نے ان کے درمیان پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

اس ویڈیو میں جلال طالبانی کو جرمنی میں پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ کے دوران ووٹ ڈالتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ وہ 2012ء کے آخر میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد سے گذشتہ کئی ماہ سے جرمنی میں زیر علاج ہیں۔انھوں نے دیگر عراقی تارکین وطن کے ساتھ ملک میں 30 اپریل بدھ کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے اپنا ووٹ ڈالا تھا۔ان کی اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد کردستان کے مرکزی شہر سلیمانیہ میں بھی ان کے حامیوں نے خوشی کے اظہار کے لیے ریلی نکالی ہے۔اس دوران وہ فائرنگ اور نعرے بازی کررہے ہیں۔

یہ ویڈیو ایک کرد ٹی وی چینل نے نشر کی ہے۔اس میں صدر طالبانی بیلٹ پیپر کو کاٹ رہے ہیں اور پھر ووٹ ڈالنے کے بعد انگلی پر انگوٹھے کا نشان دکھا رہے ہیں۔تاہم اس ویڈیو کو فلمانے کی تاریخ واضح نہیں ہے اور نہ اس کی فوری طور پر آزاد ذریعے سے تصدیق ممکن ہوسکی ہے۔اس سے یہ بھی پتا نہیں چل سکا کہ جلال طالبانی اپنے فرائض منصبی سنبھالنے کے لیے کب عراق لوٹیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں