.

شامی فوج کے جنگی طیارے باغیوں کے قبضے میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کی فورسز نے حال ہی میں ایک ویڈیو فوٹیج جاری کی ہے جس میں شمالی شہر حلب میں ان کے قبضے میں اسدی فوج کے پکڑے گئے متعدد طیاروں کو دکھایا گیا ہے۔

حلب میں واقع جراح فوجی ہوائی اڈے کی متعدد تصاویر جاری کی گئی ہیں جن میں اسلام بریگیڈ اور احرارالشام بریگیڈز سے وابستہ جنگجوؤں کو ایک طیارے کی مرمت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

العربیہ نیوزچینل سے جمعرات کو نشر ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ روسی ساختہ مِگ لڑاکا طیارے ہیں لیکن گذشتہ سال جب ہوائی اڈے پر باغیوں نے قبضہ کیا تھا تو یہ اس وقت چالو حالت میں نہیں تھے۔

اب حکومت مخالف کارکنان کا کہنا ہے کہ یہ لڑاکا طیارے سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش)کے ہاتھ لگ گئے ہوں گے کیونکہ انھیں ان کی تعداد اور اتا پتا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔واضح رہے کہ اسلام بریگیڈ اور احرارالشام بریگیڈز نومبر 2013ء میں اسلامی محاذ کے نام سے آپس میں مدغم ہوگئے تھے۔

حلب کے اس ہوائی اڈے پر شامی فوج نے گذشتہ سال دوبارہ قبضہ کر لیا تھا لیکن کچھ عرصے کے بعد اس کو خالی کردیا تھا۔پھر اس پر باغیوں نے قبضہ کر لیا تھا اور فوج کے ہوائی اڈے پر کنٹرول کی کوشش ناکام ہوگئی تھی۔

ایک ویڈیو میں ایک باغی ایک طیارے میں فنی نقص کی نشان دہی کررہا ہے اور بتارہا ہے کہ فیول کنٹرولر کے ناکارہ ہوجانے کی وجہ سے اس کا ایندھن رس رہا ہے۔

ویڈیو میں منحرف ہونے والے متعدد شامی پائیلٹ بھی نمودار ہوئے ہیں۔ان میں سے بعض طیارے کی معمولی مرمت کا کام کررہے ہیں۔طیارے پر قبضہ کرنے والے باغی گروپ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ان کو شاید ہی اب لڑاکا مشن پر دیکھا جاسکے کیونکہ یہ طیارے فرسودہ اور ازکار رفتہ ہوچکے ہیں۔اس کے علاوہ اگر یہ طیارے اڑان بھر کر فضا میں جاتے بھی ہیں تو شامی فوج انھیں طیارہ شکن توپوں سے فوری نشانہ بنا سکتی ہے۔