.

جوہری مذاکرات، پیشرفت سست روی کا شکار ہے: عباس عراقچی

جمعہ کو بھی حتمی معاہدے کیلیے ڈرافٹ کی تیاری زیر بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ویانا میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان دو روز پہلے شروع ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے ایران کے سینئِر سفارت کار نے کہا ہے '' بات چیت اچھے ماحول میں لیکن سست روی اور مشکلات کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ عباس عراقچی کے حوالے سے یہ بات جمعہ کے روز سامنے آئی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا ہے '' مذاکرات کا ماحول اچھا ہے اور بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔ لیکن مذاکرات آگے بڑھنے کی رفتار دھیمی ہے اور مشکلات ہمراہ ہیں۔'' ان کا کہنا تھا '' ویانا مذاکرات کا مقصد ایک حتمی جوہری معاہدے کی طرف پیش رفت کرنا ہے۔ ''

دوسری جانب یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرائن آشٹن کے ترجمان مائیکل مان نے اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا ہے کہ'' جمعہ کے روز بھی مذاکرات جاری رہیں گے۔ '' اس سے پہلے ہونے والے تین ادوار کے مذاکرات کے بعد اب ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان حتمی معاہدے کیلیے ڈرافٹ کی تیاری پر بات چیت جاری ہے۔

یہ ساری پیش رفت پچھلے سال جون میں ڈاکٹر حسن روحانی کے صدر بننے کے ممکن ہوئی ہے جنہوں نے اپنے پیش رو کے مقابلے میں اعتدال کی راہ اپنانے کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں پچھلے سال 24 نومبر کو ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ابتدائی معاہدہ ہو گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں ایران پر عاید پابندیوں میں قدرے نرمی کر دی گئی تھی۔

توقع کی جا رہی ہے کہ 20 جولائی تک ایران، امریکا، روس ، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے درمیان مذاکرات کے تین مزید دور ممکن ہو جائیں گے، تاہم مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کیلیے آج ہونے والا دور انتہائی اہم ہے۔