متحدہ عرب امارات، شہریوں کے لیے فوجی خدمات لازمی قرار
مردوں پر نو ماہ سے دو سال تک خدمات لازم
متحدہ عرب امارات نے خطے میں بد امنی کی صورت حال کے پیش نظر اماراتی شہریوں کے لیے لازمی فوجی خدمات کا قانون جاری کر دیا ہے۔
اس لازمی فوجی خدمات کے قانون کا مقصد ملک کے ساتھ وفاداری کو بڑھانا، وطن کے لیے وابستگی اور قربانی کو فرزندان وطن کی روح کا حصہ بنانا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے اس سے پہلے ماہ جنوری میں اس نئے قانون کے متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔ اسی اعلان کے مطابق یو اے ای کے صدر شیخ خلیفہ زاید النہیان نے ہفتے کے روز وفاقی قانون جاری کیا ہے۔
قانون کو سرکاری گزٹ میں بھی شائع کر دیا گیا ہے، اس قانون کے مطابق 18 سے 30 سال کی عمر کے ہر اچھی صحت رکھنے والے مرد شہری کو لازمی فوجی خدمات انجام دینا ہوں گی۔
ایسے مرد شہریوں کے لیے بھی فوجی خدمات لازمی ہوں گی، جنہوں نے ہائی سکول کی ڈگری حاصل کی ہوگی، اس کے مساوی ڈگری حاصل کی ہوگی وہ نو ماہ تک خدمات انجام دینے کا پابند ہوگا۔ البتہ جن کے پاس سکول کی ڈگری نہیں ہو گی انہیں دو سال تک لازمی فوجی خدمات اجام دینا ہوں گی۔
خواتین کے لیے فوجی خدمات کا معاملہ اختیاری ہو گا ۔ اس مقصد کے لے خواتین کے ولی یا سر پرست کی اجازت ضروری ہو گی۔ اجازت کی صورت میں خواتین کو نو ماہ کے لیے خدمات انجام دینا ہوں گی۔ اس میں فوجی تربیت کی مدت بھی شامل ہو گی۔
واضح رہے متحدہ عرب امارات سات امارات کا وفاق ہے ، جن میں تارکین وطن کی آبادی بڑی تعداد میں ہیں۔ ان امارات کو اپنے پڑوس سے کسی قسم کا فوری خطرہ نہیں ہے۔
-
یو اے ای میں لازمی فوجی خدمات کا قانون منظور
متحدہ عرب امارات فوجی سروس لازمی قرار دینے والا پہلا خلیجی ملک ہو گا
ایڈیٹر کی پسند -
لندن کی سڑک پر حاضر سروس فوجی کو قتل کر دیا گیا
حملہ دہشت گردی ہو سکتی ہے: ڈیوڈ کیمرون
بين الاقوامى -
مصر: خواتین کے لئے فوجی سروس لازم قرار دی جائے
"آئین میں مرد و زن اپنے حقوق و فرائض میں مساوی ہیں"
ایڈیٹر کی پسند