موصل پر اسلامی عسکریت پسند داعش کا قبضہ

گورنر کی اہل شہر سے عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

القاعدہ سے منسلک عسکری گروپ داعش نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جبکہ عراقی فورسز نے علاقے میں اپنا مرکزی کیمپ خالی کر دیا ہے۔

وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا ہے کہ ''موصل کا شہر سرکاری افواج کے ہاتھ سے نکل گیا ہے اور اب عسکریت پسندوں کے رحم و کرم پر ہے۔'' واضح رہے یہ دوسرا شہر ہے جس پر رواں سال کے دوران عسکریت پسندوں نے قبضہ کر لیا ہے۔

عسکریت پسندوں کو یہ کامیابی چار دن کی لڑائی کے بعد حاصل ہوئی ہے۔ موصل شہر کے گورنر اثيل النجيفی کو حکومتی ہیڈ کوارٹرز میں یرغمال بنا لیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں پولیس نے گورنر کو بازیاب کرا لیا ہے۔

عسکریت پسند سیکڑوں کی تعداد میں شہر میں گاڑیوں پر بھاری اسلحے کے ساتھ گشت کر رہے ہیں۔ گاڑیوں پر عسکریت پسندوں نے مشین گنیں نصب کر رکھی ہیں۔

گورنر نے اہل شہر سے عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ '' میں شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے اپنے علاقوں میں مسلح مداخلت کاروں کا مقابلہ کریں۔''

واضح رہے موصل کا مغربی حصہ مکمل طور پر اسلامی عسکریت پسندوں کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ عسکریت پسند بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں