عراق: داعش نے یونیورسٹی طلبہ اور اساتذہ کو یرغمال بنا لیا

تین پولیس گارڈ جاں بحق، سکیورٹی فورسز کا آپریشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

داعش سے وابستہ عسکریت پسندوں نے عراق کے سنی صوبہ انبار کی یونیورسٹی کے درجنوں طلبہ سمیت یونیورسٹی اساتذہ کو بھی یرغمال بنا لیا ہے۔ یہ کارروائی انبار کے شہر رامادی میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب عمل میں لائی گئی ہے۔

رامادی میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان کئی ماہ سے لڑائی جاری ہے۔ ہفتے کے روز داعش کے عسکریت پسندوں نے انبار یونیورسٹی کیمپس کے سکیورٹی گارڈز کو جاں بحق کیا اور اس کے بعد یونیورسٹی طلبہ اور اساتذہ کو یرغمال بنا لیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مسلح عسکریت پسندوں نے درجنوں افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اس کارروائی کے دوران تین پولیس گارڈز مارے گئے ہیں۔ ان پولیس گارڈز نے مسلح افراد کو یونیورسٹی کے گیٹ پر روکنے کی کوشش کی تھی۔

احمد المحمدی نامی ایک طالبعلم جو یرغمال بننے والوں میں خود بھی شامل ہے نے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی آنکھ فائرگ سے کھلی ، تو اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو سیاہ لباس پہنے مسلح افراد کیمپس میں دوڑتے ہوئے آ رہے تھے۔

المحمدی کے بقول '' کچھ ہی دیر بعد مسلح افراد ہمارے کمروں میں پہنچ گئے اور کہا کوئی بھی کمروں سے باہر نہ نکلے۔''

احمد المحمدی نے بتایا '' اسی دوران مسلح افراد بعض طلبہ کو یونیورسٹی کی دوسری عمارت کی طرف لے گئے۔ جبکہ ہم لوگ ابھی تک اپنے کمروں میں بند ہیں اور ہر طرف پریشانی پھیلی ہوئی ہے۔

دریں اثناء سکیورٹی فورسز نے بعض طلبہ کو عسکریت پسندوں کی قید سے چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق سکیورٹی فورسز اپنے آپریشن اب کو وسعت دے رہی ہیں۔ اس دوران یونیورسٹی کے آس پاس سے بھاری فائرنگ کی آوازیں سنی جا رہی ہیں

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں