داعش سے جنگ کے لیے ایرانی دستے عراق روانہ

صدر اوباما کا عراق میں اسلامی مزاحمت سے نمٹنے کے لیے آپشنز پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

عراق کے شمالی اور شمال مغربی صوبوں میں القاعدہ سے متاثر دولت اسلامی عراق وشام (داعش) ،اس کے اتحادی مقامی مزاحمت کاروں اور مسلح قبائلیوں کی دارالحکومت عراق کی جانب پیش قدمی جاری ہے جبکہ پڑوسی ملک ایران نے وزیراعظم نوری المالکی کی قیادت میں فوج کی مدد کے لیے اپنے دستے بھیجے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے جمعہ کو ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران نے ایلیٹ فورس پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والے پانچ سو فوجیوں کو عراق کے مشرقی صوبے دیالا میں بھیجا ہے اور وہ وہاں عراقی فورسز کے ساتھ مل کر داعش کے جنگجوؤں کے مقابلہ کریں گے۔

سی این این نے بغداد کے ایک سینیر سکیورٹی عہدے دار کے حوالے سے ایران کے خصوصی دستوں کی دیالا میں آمد کی اطلاع دی ہے لیکن امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ عراق میں ایرانی خصوصی فورسز کی موجودگی سے متعلق میڈیا رپورٹس کی تصدیق نہیں کرسکتے ہیں۔

ترجمان رئیر ایڈمرل جان کربی نے کہا کہ انھوں نے اس موضوع پر پریس رپورٹس دیکھی ہیں لیکن وہ اس کی تصدیق نہیں کرسکتے کہ عراق کے اندر ایرانی خصوصی فورسز موجود ہیں''۔صوبہ دیالا ایران کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔آج داعش کے جنگجوؤں نے اس صوبے کے دوقصبوں جلولہ اور سعیدیہ اور ان کے نواح میں واقع دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔

داعش نے عراق کے شمالی علاقوں میں گذشتہ پانچ کے دوران سرکاری فوج کے مقابلے میں میدان جنگ میں نمایاں کامیابیوں کے بعد اپنے جنگجوؤں کو عراقی دارالحکومت بغداد کی جانب پیش قدمی کا حکم دیا تھا۔داعش کے اس انتباہ کے بعد سے عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت ہائی الرٹ ہے اور بغداد کے دفاعی حصار کو مضبوط بنانے میں لگی ہوئی ہے۔

عراق کی وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل سعد معان نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم بغداد کے تحفظ کے لیے ایک نئے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔اس کے تحت فورسز کی بھاری نفری تعینات کی جارہی ہے، انٹیلی جنس کی کوششوں کو بڑھایا جارہا ہے اور نگرانی کے لیے غباروں ، کیمروں اور دوسرے آلات سمیت ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے''۔

ترجمان نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز کے درمیان روابط کو بھی مضبوط بنایا جارہا ہے۔ ان کے بہ قول اس وقت ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ درپیش ہے اور آج ہمیں غیر معمولی صورت حال کا سامنا ہے۔

سیاہ لباس میں ملبوس داعش کے جنگجوؤں نے مقامی مسلح مزاحمت کاروں کی مدد سے گذشتہ پانچ روز کے دوران عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل ،سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت اور شمال میں واقع دوسرے چھوٹے، بڑے شہروں اور قصبوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے عراقی فوج کو ماربھگایا ہے یا سرکاری فوجی خود ہی اپنی چوکیاں ،وردیاں ،اسلحہ اور یونٹ چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔

درایں اثناء امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ عراق میں متشدد اسلامی مزاحمت سے نمٹنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کررہے ہیں لیکن انھوں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک بغداد کی حکومت کے لیڈر اختلافات کے سیاسی تصفیے کے لیے کچھ نہیں کرتے ،امریکا فوجی کارروائی نہیں کرے گا۔

انھوں نے وائٹ ہاؤس سے ایک بیان میں عراق میں امریکی فوجیوں کو دوبارہ بھیجنے کا امکان مسترد کردیا ہے۔تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ وہ عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت کی مدد کے لیے کن آپشنز پر غور کررہے ہیں۔انھوں نے جمعرات کو ایک بیان میں داعش کے خلاف فضائی حملوں کی دھمکی دی تھی۔

ادھر چین نے کہا ہے کہ وہ عراق میں سکیورٹی کی تازہ صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔انھوں نے بغداد حکومت کو ہر ممکنہ تعاون کی بھی پیش کش کی ہے۔ واضح رہے کہ چین نے عراق میں تیل نکالنے اور تیل صاف کرنے کے منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کررکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں