اردنی عالم دین ابو قتادہ دہشتگردی کے مقدمے سے بری
ابو قتادہ کے خلاف الزام ثابت نہیں ہو سکا: فوجی عدالت
اردن کی ایک فوجی عدالت نے معروف مبلغ دین ابو قتادہ کو دہشت گردی کے مقدمے سے بری کر دیا ہے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے 1998 میں ایک دہشت گردانہ کارروائی کی سازش میں حصہ لیا تھا۔ دہشت گردی کی اس کارروائی میں عمان میں قائم ایک امریکی سکول کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
فوجی عدالت نے 53 سالہ ابو قتادہ کو معصوم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف مناسب شہادت دستیاب نہیں ہو سکی ہے۔
واضح رہے ابو قتادہ کو پچھلے سال برطانیہ نے اردنی حکام کے حوالے کیا تھا۔ جہاں انہیں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مقدمے سے بری ہونے کے علاوہ دہشت گردی کے ایک اور مقدمے کا بھی سامنا کرنا ہو گا۔ دوسرا الزام اسرائیلیوں ، امریکیوں اور مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والوں پر مبینہ حملے کے حوالے سے ہے۔
دوسرا الزام 2000 کو رونما ہونے والے واقعے سے تعلق رکھتا ہے جو اردن میں پیش آیا تھا۔ عدالت نے عمر محمود محمد عثمان المعروف ابو قتادہ پر الزام کے بارے میں کوئِی شہادت دستیاب نہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا مجموعی طور مقدمے کا فیصلہ ماہ ستمبر میں ہوگا۔
واضح رہے فوجی عدالت نے ابو قتادہ کو متفقہ طور پر معصوم قرار دیا ہے۔ فیصلہ سننے پر ابو قتادہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ جبکہ ان کے اہل خانہ نے آگے بڑھ کر انہیں چومتے ہوئے گلے لگا لیا۔
ابو قتادہ فلسطین میں پیدا ہوئے تھے، انہیں 1999 میں ان کی عدم موجودگی میں اسی مقدمے میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ جبکہ انہیں اگلے ہی سال دوسرے مقدمے میں بھی ان کی عدم موجودگی میں انہیں 15 سال قید سنائی گئی۔
-
اردن:راسخ العقیدہ عالم دین ابو قتادہ کے خلاف ٹرائل کا آغاز
سکیورٹی عدالت میں مختصر کارروائی کے بعد مقدمے کی سماعت 24 دسمبر تک ملتوی
بين الاقوامى -
اردن: ابو قتادہ کے خلاف 10روز میں ٹرائل کا آغاز
اردنی پراسیکیوٹر نے راسخ العقیدہ عالم دین سے تحقیقات مکمل کرلیں
مشرق وسطی -
ابو قتادہ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ ایک ہفتے کے لیے ملتوی
برطانیہ بدری کے بعد فلسطینی نژاد عالم کے خلاف اردن میں مقدمے کی ازسرنو سماعت
بين الاقوامى