غزہ کے معاملے پر ٹھنڈے دماغ سے فیصلہ کیا جائے:نیتن یاہو
انتہا پسند اسرائیلی وزراء کا غزہ کی پٹی میں بڑے جارحانہ فوجی آپریشن کا مطالبہ
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو غزہ کی پٹی کے علاقے میں فلسطینیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی سے نمٹنے کے لیے جارحانہ انتہا پسندی کے بجائے مفاہمت اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں اور انھوں نے اپنی کابینہ پر زوردیا ہے کہ وہ اس معاملے پر ٹھنڈے دماغ سے سوچ بچار کرے۔
فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے اتوار کو اپنی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں کہا:''تجربے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ موجودہ درپیش صورت حال میں ہمیں ذمے داری اور ٹھنڈے دماغ سے اقدام کرنا ہوگا،سخت الفاظ اور سخت گیری سے نہیں''۔
اسرائیل کے اقصادی امور کے وزیر اور دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت جیوش ہوم پارٹی کے سربراہ نفتالی بینیٹ نے غزہ کے خلاف سخت اقدام کا مطالبہ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر تین صہیونی لڑکوں کی ہلاکت کے ردعمل میں کارروائی نہ کی گئی تو اس کو ایک کم زوری خیال کیا جائے گا۔
انتہا پسند وزیرخارجہ ایویگڈور لائبرمین نے بھی کچھ اسی قسم کا بیان داغا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کرنا چاہیے۔وہ ماضی میں اس فلسطینی علاقے پر دوبارہ قبضے کا مطالبہ بھی کرچکے ہیں۔
لیکن اعتدال پسند وزیرانصاف زیپی لیفینی فلسطینیوں کے خلاف جارحیت کے حق میں نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ''اسرائیل کو انتہاپسندوں اور سخت گیر لب ولہجہ رکھنے والوں کو اس بات کا فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ کیا موقف اختیار کرے''۔انھوں نے کہا کہ ''عوام میں جوش خطابت ٹھنڈے دل ودماغ سے سوچنے کا مترادف نہیں ہوسکتا ہے''۔
اسرائیلی فوج کے مقبوضہ مغربی کنارے میں جون کے وسط میں فلسطینیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد سے غزہ کی پٹی میں کشیدگی پائی جارہی ہے۔اسرائیلی فورسز نے تین یہودی آبادکار لڑکوں کی بازیابی کے لیے یہ کریک ڈاؤن کیا تھا لیکن ان تینوں کی گذشتہ ہفتے لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔
اس کے ردعمل میں مقبوضہ بیت المقدس میں انتہا پسند یہودیوں نے ایک فلسطینی لڑکے محمد ابو خضیر کو اغوا کے بعد زندہ جلا دیا ہے۔ایک اسرائیلی عہدے دار نے کہا ہے کہ پولیس نے محمد ابوبکر کو اغوا کے بعد قتل کرنے کے الزام میں یہودی انتہا پسندوں کے ایک گروہ کو گرفتار کر لیا ہے۔
قبل ازیں اسرائیلی اخبار ہارٹز کی ویب سائٹ پر چھے مشتبہ یہودی انتہا پسندوں کی گرفتاری کی اطلاع دی گئی تھی۔سولہ سالہ ابوخضیر کو گذشتہ بدھ کو مقبوضہ بیت المقدس کے نواح سے اغوا کیا گیا تھا اور اس کی جلی ہوئی لاش قریب واقع ایک جنگل سے ملی تھی۔فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اس کو تین اسرائیلی لڑکوں کے انتقام میں قتل کیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کی چیرہ دستیوں کے جواب میں غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے فلسطینی مزاحمت کار جنوبی اسرائیلی کی جانب راکٹ فائر کررہے ہیں اور انھوں نے گذشتہ چوبیس روز کے دوران ایک سو پینتیس راکٹ فائر کیے ہیں جبکہ اکیس کو اسرائیل کے آئرن ڈوم دفاعی نظام نے ناکارہ بنا دیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے ان راکٹ حملوں کے جواب میں غزہ میں مختلف علاقوں پر بمباری کی ہے جن کے نتیجے میں تین فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔اسرائیلی کابینہ کے سخت گیر اور انتہا پسند وزراء فلسطینیوں کے خلاف ان کارروائیوں کو کافی خیال نہیں کرتے ہیں۔اس لیے وہ زیادہ سخت اقدامات کا مطالبہ کررہے ہیں۔
-
غزہ سے اسرائیل پر راکٹوں کی بارش
اسرائیلی وزیر بھی زیر زمین بنکر میں پناہ لینے پر مجبور
مشرق وسطی -
فلسطینی لڑکے کی شہادت: القدس میدان جنگ میں تبدیل
غزہ میں بمباری سے متعدد شہری زخمی
مشرق وسطی -
غزہ پر اسرائیلی فضائی حملہ، ایک فلسطینی شہید دو زخمی
ماہ جون میں اسرائیل نے غزہ میں تین فلسطینی شہید کیے
مشرق وسطی -
غزہ میں فلسطینی مزاحمتی ٹھکانوں پر اسرائیلی حملے
لڑاکا طیاروں کی بمباری سے سیمنٹ فیکٹری، کئی مکانات تباہ
مشرق وسطی -
جامعہ بیرزیت پر اسرائیلی فوج کا دھاوا، غزہ پر بمباری
"حماس کے کارکنوں سے 'انسانی بم' کے طور پر ڈیل کیا جائے"
مشرق وسطی -
فلسطینی تنظیموں کے غزہ ٹھکانوں پر اسرائیلی حملے
اسرائیلی طلباء دہشت گرد تنظیم نے یرغمال بنا رکھے ہیں: یاھو
مشرق وسطی