غزہ جنگ بندی کی مصری تجویز، اسرائیل کا غور

پہلے سیاسی معاہدہ اور غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی ''حفاظتی کنارہ'' کا چھٹا روز مکمل ہونے پر اس جنگی کارروائی کو رکوانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں مصر نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ منگل کی صبح سے ایک عارضی جنگ بندی پر آمادہ ہو جائیں۔

مصری اپیل پر اسرائیلی کابینہ آج وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی زیر صدارت غور کر رہی ہے۔ مصر کی طرف سے پیش کردہ یہ تجویز گذشتہ منگل کے روز سے اسرائیلی کارروائیوں کے آغاز کے بعد بین الاقوامی سطح سے اب تک کی اہم ترین تجویز ہے۔

دوسری جانب حماس نے کسی سیاسی معاہدے کے کور کے بغیر جنگ بندی کو بے معنی قرار دیا ہے اور پہلے معاہدہ کرنے پر اصرار کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب 2007 سے جاری غزہ کا فوجی محاصرہ بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مصری وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق مصری تجویز تین مراحل پر مشتمل ہے پہلے مرحلے میں 12 گھنٹوں کے اندر اندر غیر مشروط طور پر عارضی جنگ بندی ہو گی، دوسرے مرحلے پر قاہرہ فریقین کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کرے گا اور تیسرے مرحلے پر دو دن کے اند اندر غزہ کراسنگ کے کھولنے پر قاہرہ میں ہی بات چیت شروع ہو گی۔

مصری وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس موقع اپنی تجویز کی عرب دنیا سے حمایت کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔ اگرچہ حماس نے دوٹوک کہہ دیا ہے کہ ایک جامع معاہدے کے بغیر وہ جنگ بندی کے حق میں نہیں ہے۔

حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے کہا '' سیاسی معاہدہ کے بغیر ہم جنگ بندی کو مسترد کرتے ہیں۔'' دریں اثنا حماس کے رہنما اسماعیل ھنیہ نے الجزیرہ سے نشر ہونے والی ایک تقریر میں جنگ بندی کی تجویز کی تصدیق کی ہے کہ اس نوعیت کی سفارتی کوشش چل رہی ہے۔

اسماعیل ہنیہ نے کہا '' حماس صرف جنگ بندی نہیں چاہتی ہے بلکہ فوجی محاصرے کی وجہ سے کئی برسوں سے تباہ ہو کر رہ جانے والی عام آدمی کی زندگی کی بھی بحالی چاہتی ہے۔ '' اصل مسئلہ غزہ کے محاصرے کا ہے جس سے نجات ضروری ہے۔ ''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں