اسرائیلی بحریہ کی گولہ باری،چار فلسطینی بچے شہید

حماس نے باضابطہ طور پر مصر کی جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی بحریہ نے غزہ شہر کے نزدیک ساحل پر گولہ باری کی ہے جس کے نتیجے میں چار فلسطینی بچے شہید اور پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ حماس نے مصر کی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔

غزہ میں ایمرجنسی سروسز کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا ہے کہ شہید اور زخمی ہونے والے فلسطینی بچوں نے صحافیوں کے زیر استعمال ایک ہوٹل میں پناہ لی تھی۔غزہ پر گذشتہ نو روز سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد دو سو تیرہ ہوگئی ہے۔

اسرائیلی بحریہ نے بدھ کو گرینچ معیاری وقت کے مطابق 1300 ( جی ایم ٹی) بجے پہلا حملہ کیا تھا جس کے بعد غزہ کے ساحل پر موجود بچے اور بالغ ادھر ادھر منتشر ہوگئے۔اس کے بعد دوسرا اور تیسرا حملہ بھاگتے ہوئے فلسطینی بچوں پر کیا گیا۔اسرائیلی بحریہ کی اس گولہ باری سے ساحل پر عارضی پناہ کے لیے بنے ہوئے کھوکھوں کو آگ لگ گئی۔

صہیونی بحریہ کی گولہ باری اور فائرنگ سے بچنے کے لیے بچے بھاگ کر ایک ہوٹل کے اندر آگئے تھے اور وہاں موجود فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے وابستہ صحافیوں نے تین زخمی بچوں کو دیکھا ہے۔انھیں اور دوسرے زخمیوں کو ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ان میں سے ایک زخمی شخص کی ٹانگ جسم سے الگ ہوچکی تھی۔

اسرائیلی بحریہ کے اس حملے سے چندے قبل ہی حماس نے سرکاری طور پرمصر کی جانب سے جنگ بندی کے لیے پیش کردہ تجویز کو باضابطہ طور پر مسترد کردیا ہے۔حماس کے ترجمان سامی ابوزہری نے صحافیوں کو بھیجے گئے ایک مختصر ٹیکسٹ پیغام میں کہا ہے کہ ان کی جماعت نے آج قاہرہ کو باضابطہ طور پر جنگ بندی کی تجویز ناقابل قبول ہونے کے حوالے سے مطلع کردیا ہے۔

اسرائیل نے منگل کو مصری تجویز کو قبول کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے چند گھنٹے کے بعد ہی صہیونی فوج نے دوبارہ غزہ پر فضائی حملے شروع کردیے تھے اور ان کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ حماس نے راکٹ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کو روکا نہیں ہے۔

درایں اثناء فلسطینی صدر محمود عباس کی فتح تحریک کے ایک سینیر عہدے دار عزام الاحمد نے بتایا ہے کہ قاہرہ میں حماس کے ایک عہدے دار مصری قیادت کے ایک نمائندے کے ساتھ آج سہ پہر بات چیت کرنے والے تھے۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس بات چیت میں مصر کے جنگ بندی کے منصوبے کو واضح کرنے میں مدد ملے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں