.

اُنروا کے اسکول پر اسرائیلی حملہ ، 15 فلسطینی شہید

غزہ کے شمال میں اسکول پر اسرائیلی گولہ باری سے 100 فلسطینی زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے جمعرات کو غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع قصبے بیت حانون اقوام متحدہ کی فلسطینی مہاجرین کے لیے امدادی ایجنسی اُنروا کے زیر انتظام ایک اسکول پر گولہ باری کی ہے جس کے نتیجے میں ایک بچے سمیت پندرہ فلسطینی شہید اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

العربیہ کے نمائندے نے غزہ سے اطلاع دی ہے کہ بیت حانون میں اُنروا کے اسکول میں سیکڑوں فلسطینیوں نے اسرائیلی جارحیت سے بچنے کے لیے پناہ لے رکھی ہے لیکن آج صہیونی فوجیوں نے انھیں وہاں بھی گولہ باری کا نشانہ بنا دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک عہدے دار نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیلی گولہ باری میں متعدد فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔اسرائیلی فوج پہلے بھی غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں اُنروا کے تحت قائم اسکولوں کو اپنے فضائی اور زمینی حملوں میں نشانہ بنا چکی ہے۔

جمعرات کو علی الصباح غزہ کے جنوبی قصبے خان یونس میں اسرائیلی فوج کی بمباری کے نتیجے میں سولہ فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔اس طرح آج اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ساٹھ ہوگئی ہے۔

اُنروا کے اسکول میں پناہ گزین فلسطینیوں پر گولہ باری سے چندے قبل ایک صہیونی وزیر یاکوو پیری نے کہا ہے کہ غزہ سے آیندہ چند روز میں فوج کے انخلاء کا کوئی امکان نہیں ہے اور اسرائیلی فوج انسانی بنیاد پر کسی جنگ بندی کے باوجود فلسطینی علاقے میں موجود سرنگوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔

غزہ کی پٹی میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کی ننگی جارحیت کو رکوانے کے لیے عالمی سطح پر سفارتی کوششیں جاری ہیں لیکن ابھی تک یہ کوششیں ثمربار نہیں ہوسکی ہیں۔بعض خلیجی ممالک عیدالفطر کے موقع پر غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائی عارضی طور پر رکوانے کے لیے کوشاں ہیں۔

گذشتہ سترہ روز سے جاری اسرائیلی فوج کی بمباری اور گولہ باری میں سات سو ساٹھ فلسطینی شہید اور چار ہزار چھے سو سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں میں بتیس صہیونی فوجی مارے گئے ہیں اور دو عام یہودی ہلاک ہوئے ہیں۔