.

اسرائیلی فوج کا مغربی کنارے میں فلسطینی مظاہرین پر تشدد

ایک شہید 150 زخمی، پانچ کی حالت نازک، ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ میں بدترین قتل و غارت گری کے بعد اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلنا شروع کر دی ہے۔ آٹھ جولائی سے غزہ کے خلاف جاری اسرائیلی جنگ کی مذمت کے لیے مغربی کنارے میں جمع ہونے والے ہزاروں مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی فوج کی تشدد آمیز کارروائی سے ایک فلسطینی شہید جبکہ 150 زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں سے کئی کے زخم خطرناک ہیں اور ان میں سے پانچ زخمیوں کی حالت نازک ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق 25 سالہ محمد الاعراج شہید ہوا ہے۔

محمد الاعراج مقبوضہ یروشلم اور مغربی کنارے کے درمیان ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے کم از کم ان دس ہزار فلسطینی مظاہرین میں شامل تھا جو غزہ پر صیہونی خونریزی کے خلاف نکلے تھے۔ ان مظاہرین میں سے کم از کم 150 مظاہرین گولی لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقتی حربوں کا استعمال کیا ہے۔

فوج کے مطابق مظاہرین پتھراو کرنے کے علاوہ آتش گیر بم استعمال کر رہے تھے اور ٹائروں کو آگ لگا رہے تھے۔ یہ احتجاجی ماحول اس وقت سامنے آیا جب حکمران جماعت "فتح" کی طرف سے مغربی کنارے سے یروشلم تک اسرائیلی فوج کے خلاف احتجاجی مارچ شروع کیا گیا اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے احتجاج کو روکنے کی کوششیں کیں۔

واضح رہے اسرائیلی فوج نے غزہ میں اب تک لگ بھگ آٹھ سو فلسطییوں کو شہید کر دیا ہے۔ اسرائیلی ریڈیو کے مطابق 2000 سے 2005 کے دوران ہونے والے احتجاجوں کے بعد یہ ایک بڑا احتجاج تھا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے جمعہ کے روز صورت حال پر قابو پالینے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ کئی گھنٹوں کے تصادم کے بعد بہتری آ گئی ہے۔

اس سے پہلے اسرائیلی پولیس نے کہا تھا حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس نے 50 سال سے کم عمر کے فلسطینیوں کا مسجد اقصی کی طرف جانا روک دیا تھا۔ یہ فلسطینی لیلۃ القدر کی تلاش کے لیے مسجد اقصی میں قیام اللیل کرنا چاہتے تھے۔

غزہ میں اب تک اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری سے شہداء کی تعداد لگ بھگ آٹھ سو ہو چکی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد پانچ ہزار کو چھو رہی ہے۔ اسرائیلی فوج نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام قائم سکول کو بھی بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔ جس سے کم از کم 15 فلسطینی شہید ہو گئے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اس صورت حال پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے۔ بان کی مون نے اس سلسلے میں مختلف عالمی رہنماوں سے بھی ملاقات کی ہے۔ جبکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ترجمان نے اقوام متحدہ کے سکول پر بمباری کے بعد کہا تشدد کو روکنے کی ضرورت ہے۔