.

تعلیم یافتہ مصری نوجوان داعش کا جنگجو کیسے بنا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں سرکاری سکیورٹی فورسز اور دوسرے جنگجو گروپوں کے خلاف برسرپیکار جہادی تنظیم دولت اسلامی عراق وشام (داعش) اپنے کٹڑپن ،بنیاد پرستی، سخت گیری اور سفاکیت کے لیے بدنام زمانہ ہے لیکن اس کے باوجود مغربی اور عرب ممالک کے پڑھے لکھے نوجوان اس میں بڑی تعداد میں شامل ہورہے ہیں اور جنگ زدہ مذکورہ دونوں ممالک میں داد شجاعت دے رہے ہیں۔

انہی نوجوانوں میں سے ایک مصری اسلام یقین کی سوشل میڈیا کے ذریعے کہانی سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کثیرالجہت خوبیوں کا مالک یہ نوجوان بھی داعش میں شامل ہوچکا ہے اور شام میں اس گروپ کے جنگجوؤں کے ساتھ مل کر صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف لڑرہا ہے۔

اسلام یقین کوئی عام مصری نوجوان نہیں ہے بلکہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے اور ایک وقت میں باڈی بلڈنگ کا دلدادہ رہا ہے۔اس کے فیس بُک صفحے پر اس کی ایسی تصاویر موجود ہیں جن میں وہ اپنے اکڑے ہوئے پٹھوں اور سڈول جسم کی نمائش کررہا ہے۔

متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار سلطان القاسمی نے اپنے فیس بُک صفحے پر لکھا ہے کہ ''مصری سوشل میڈیا پر گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران اس نوجوان اسلام یقین کے بارے میں ہی گفتگو کررہے ہیں''۔ان کے بہ قول اس نوجوان کی عمر تئیس سال ہے اور اس نے قاہرہ کے نواحی علاقے ہیلیو پولس میں واقع ایک فرانسیسی اسکول سے ہائی اسکول کی تعلیم حاصل کی اور 2009ء میں گریجوایشن کی تھی۔

اس نے بعد میں عین الشمس یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا اور یہاں سے 2013ء میں قانون کی ڈگری حاصل کی تھی۔اسلام یقین نے متعدد زبانیں سیکھ رکھی ہیں۔وہ موسیقی کا دلدادہ رہا ہے اور اس کو ہر طرح کے گانے پسند ہیں۔

سوشل میڈیا کے صارفین اس کے فیس بُک صفحے کے مطالعے یا اس کے جاننے والوں سے گفتگو کے بعد یہ فیصلہ نہیں کرسکے ہیں کہ دراصل اس نے اعلیٰ تعلیم کس شعبے میں پائی ہے۔بعض کا کہنا ہے کہ اس نے انجنیئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے۔

ایک مصری نے لکھا ہے کہ :''اس لڑکے (یقین) نے عین الشمس یونیورسٹی میں انجنیئِرنگ کی تعلیم پائی تھی۔اللہ اس پر رحم کرے،اس کے بعد وہ دہشت گرد بن گیا تھا اور شام میں دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کی صفوں میں شامل ہوگیا تھا''۔ایک اور مصری نے ٹویٹر پر یہی معلومات دی ہیں اور صرف یہ اضافہ کیا ہے کہ جامعہ عین الشمس جہادیوں کی سرگرمیوں کا ایک مرکز ہے۔

اسلام یقین نے سوشل میڈیا پر اپنی بعض ایسی تصاویر بھی پوسٹ کی ہیں جن میں اس نے خود کو داعش کے جنگجو کے طور پر پیش کیا ہے۔وہ ایک گھوڑے پر سوار ہے اور اس نے تلوار پکڑی ہوئی ہے۔ایک مصری نے ٹویٹر پر لکھا ہے:''مصری اسلام یقین سے ملیے۔اس کو مغربی اور منافق ایک عام لڑکے سے انتہا پسند ہونے کا خطاب دیتے ہیں''۔

ٹویٹر کے ایک صارف نے مصر میں رہنے والے صحافیوں کے لتے لیے ہیں اور لکھا ہے کہ مجھے حیرت ہے کہ انھوں نے اسلام یقین کے بارے میں کچھ معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔اس کے بارے میں معلومات کا حصول کوئی مشکل نہیں ہونا چاہیے۔جائیے اور ان لوگوں سے گفتگو کیجیے جو اس کو جانتے ہیں''۔

اسلام یقین کی اس اسٹوری کی سنجیدگی کے باوجود کچھ لوگوں کو اس کے درست اور مصدقہ ہونے کا یقین نہیں ہے۔یہ اور بات ہے کہ اس کی تصاویر کو مختلف میڈیا ذرائع نے شائع کیا ہے لیکن ان تصاویر اور اس کہانی کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔