دہشت گردی کے الزام میں 9 بحرینیوں کی شہریت منسوخ
خلیجی ریاست بحرین نے دہشت گردی کے الزامات میں ملوث 14 ملزمان کو پانچ سے 15 سال قید جبکہ 09 کی شہریت کی منسوخی کی سزائیں سنائی ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بحرینی پراسیکیوٹر جنرل وائل بو علاوی نے میڈیا کو بتایا کہ منامہ کی فوجداری عدالت نے دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کرنے والے ایک درجن سے زائد ملزمان کے مقدمات کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ناکافی ثبوت کی بناء پر ایک ملزم کو بری کر دیا جبکہ نو کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کی پاداش میں ان کی شہریت منسوخ کر کے ملک بدری کا حکم دیا ہے۔
ان ملزمان پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ منامہ کے ایک سیکیورٹی مرکز میں زیر حراست افراد کے ایک گروپ کو بیرون ملک فرار کرانے کا بھی الزام عائد تھا۔
بوعلاوی نے بتایا کہ بعض ملزمان پر ایران کے خفیہ اداروں سے روابط رکھنے اور بحرین میں بدامنی پھیلانے کے لیے دہشت گرد تنظیم کے قیام سمیت کئی دوسرے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ ملزمان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی ضبط کیا گیا جس پرانہیں سزائین سنائی گئی ہیں۔
خیال رہے کہ بحرینی آئین میں قومی سلامتی سے متعلق ترمیم کے بعد 2013ء میں ایک نیا قانون جاری کیا گیا جس میں آئین کی دفعہ 58 مجریہ 2006ء کے علاوہ دفعہ 24 کو بھی شامل کیا گیا تھا، جس کی رو سے دہشت گردی کے مرتکب کسی بھی ملزم کی شہریت منسوخ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ فوجداری عدالت دہشت گردی کے الزام میں ملوث کسی بھی شخص کی شہریت کی منسوخی کی سزا دے سکتی ہے تاہم اس پر عمل درآمد سربراہ مملکت کے حکم سے ہو گا۔
-
"نوری المالکی، ریاض اور بحرین دشمنوں کے سرپرست ہیں"
مفتی اعظم عراق کا العربیہ نیوز کا دورہ اور خصوصی انٹرویو
مشرق وسطی -
بحرین میں موجود معاون امریکی وزیرخارجہ ناپسندیدہ قرار
سفارتی آداب کے منافی سرگرمیوں پر ملک سے نکل جانے کا حکم
ایڈیٹر کی پسند -
سفراء کی دوحہ واپسی 'اعلان ریاض' کے نفاذ سے مشروط
خلیج بحران حل کے لیے قطر نے مثبت جواب نہیں دیا: بحرین
مشرق وسطی