مصر:اخوان کے مرشدعام کو سنائی گئی سزائے موت مسترد

مفتیِ اعظم کی عدالت کو شواہد اور تفتیش کی روشنی میں فیصلے پر نظرثانی کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصر کے مفتیِ اعظم شوقی عالم نے اخوان المسلمون کے مرشدعام اور ان کے تیرہ ساتھیوں کو سنائی گئی موت کی سزا مسترد کردی ہے اور عدالت سے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کرے۔

اخوان المسلمون کے مرشدعام محمد بدیع اور ان کے ساتھیوں کو 19 جون کو قاہرہ کی ایک خصوصی عدالت نے گذشتہ سال جولائی میں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد پیش آئے تشدد اور ہلاکتوں کے واقعات کے الزامات میں سزائے موت سنائی تھی۔مصری قانون کے تحت سزائے موت پر عمل درآمد سے قبل اس کی مفتیِ اعظم سے توثیق ضروری ہے۔

سزائے موت کے فیصلوں کے خلاف مفتیِ اعظم کی رپورٹ کو بالعموم عام نہیں کیا جاتا ہے لیکن اس کیس کی سماعت کرنے والے تین ججوں میں سے ایک نے کہا ہے کہ مفتیِ اعظم نے تحقیقات اور شواہد کو سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے ناکافی قرار دیا ہے۔

دوسری جانب مصری قانون کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عدالت نے آج جمعرات کو مقدمے کی سماعت کے دوران ایک نئی مثال قائم کرتے ہوئے خود مفتیِ اعظم سے کہا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔اس نے مزید سماعت 30 اگست تک ملتوی کردی ہے۔عدالت کے ایک جج نے کہا ہے کہ ''مفتی نے مذہبی رائے نہیں دی ہے بلکہ کیس کے شواہد کا جائزہ لیتے ہوئے عدالت کے دائرہ اختیار میں مداخلت کی ہے''۔

اس مقدمے میں محمد بدیع کے علاوہ اخوان المسلمون کے سینیر رہ نماؤں محمد البلتاجی ،اعصام العریان اور مرسی حکومت کے بعض عہدے داروں کو ماخوذ کیا گیا تھا۔اس مقدمے میں مجرم قرار دیے گئے چھے مدعاعلیہان ابھی تک مفرور ہیں۔

ان تمام مدعاعلیہان پر جولائی 2013ء میں منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد قاہرہ کے نواح میں واقع مسجد استقامت کے باہر نو افراد کی ہلاکت کے الزام میں مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ ان پر تشدد کی شہ دینے کا بھی الزام تھا جس کے نتیجے میں اکیس افراد مارے گئے تھے۔

اخوان المسلمون کے لیڈروں کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کے صدر جج ناجی شہاتہ ہیں۔ان جج صاحب نے ہی الجزیرہ ٹی وی چینل سے وابستہ تین صحافیوں کو سات سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی تھیں۔واضح رہے کہ ان کے ایک معاون جج ایہاب المنوفی نے جون میں اخوان کے لیڈروں کو سنائی گئی سزائے موت کے فیصلے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خود مصری عدلیہ میں بھی اخوان المسلمون کے لیڈروں کے خلاف ٹرائل پر اختلافات پائے جاتے ہیں اور بعض جج حضرات شواہد اور تفتیش سے مطمئن نہیں تھے۔

مفتیِ اعظم شوقی عالم کے ایک سینیر مشیر ابراہیم نجم کا کہنا ہے کہ اسلامی قانون کے تحت مذہبی حکام کسی بھی کیس کے تمام شواہد کا جائزہ لینے کے پابند ہیں۔اگر ان سے اس کیس کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے کہا گیا تو وہ ایک مرتبہ پھر تمام شواہد کو دیکھیں گے۔

واضح رہے کہ مصری عدالتوں نے اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع سمیت سیکڑوں رہ نماؤں اور کارکنان کو گذشتہ مہینوں کے دوران تھوک کے حساب سے قید اور پھانسی کی سزائیں سنائی ہیں۔عالمی سطح پر عجلت میں سزائی گئی ان سزاؤں کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور بعض مبصرین نے ان سزاؤں کو انصاف کے قتل کے مترادف قراردیا ہے۔امریکا سمیت مختلف ممالک اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اخوان کے کارکنان کو مختلف الزامات میں قائم مقدمات میں سنائی گئی پھانسی کی سزاؤں پر کڑی تنقید کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں