.

ایران: نامزدعراقی وزیراعظم حیدرالعبادی کی حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے موجودہ وزیراعظم نوری المالکی کے اہم اتحادی ملک ایران نے ان کے بجائے نامزد وزیراعظم حیدرالعبادی کی حمایت کردی ہے اور کہا ہے کہ وہ عراق میں انتقال اقتدار کے لیے قانونی عمل کا حامی ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے نمائندہ علی شامخانی نے منگل کو تہران میں ایرانی سفیروں کے اجلاس کے دوران یہ کلمات کہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ عراق کے آئین میں یہ فریم ورک واضح ہے کہ پارلیمان میں اکثریتی گروپ سے وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے گا۔

ایران کی جانب سے اس پہلے سرکاری بیان سے واضح ہے کہ نوری المالکی کو اب تہران میں ہم مسلک شیعہ رہ نماؤں اور سیاست دانوں کی حمایت حاصل نہیں رہی ہے اور ان کا جانا اب ٹھہر گیا ہے۔ایرانی عہدے دار حال ہی میں یہ کَہ چکے ہیں کہ نوری المالکی ملک کو اکٹھے رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں اور یہ کہ ایران کسی متبادل لیڈر کی تلاش میں ہے جو شمالی عراق میں سُنی جنگجوؤں کی شورش پر قابو پاسکے۔

قومی اتحاد کی حکومت

قبل ازیں امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے ایک بیان میں نامزد وزیراعظم حیدر العبادی پر زور دیا ہے کہ وہ جلد سے جلد تمام طبقوں اور سیاسی دھڑوں پر مشتمل قومی اتحاد کی کابینہ تشکیل دیں۔انھوں نے کہا کہ امریکا اس نئی عراقی حکومت کی جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کے خلاف لڑائی میں مدد دینے کو تیار ہے۔

انھوں نے سڈنی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب عراق میں لڑاکا امریکی فوجی دستے نہیں بھیجے جائیں گے اور اس لڑائی کو خود عراقیوں ہی نے لڑنا ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا اور آسٹریلیا نے شام اور عراق میں لڑنے والے غیرملکی جنگجوؤں کے معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھانے سے اتفاق کیا ہے۔


امریکی اور آسٹریلوی حکام نے سڈنی میں سکیورٹی مذاکرات کے دوران دولت اسلامی عراق اور شام کی صفوں میں شامل ہو کر لڑنے والے غیر ملکی جنگجوؤں کے مسئلے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔اس سے ایک روز پہلے ہی سڈنی میں پلے بڑھے ایک کم سن لڑکے کی تصویر انٹرنیٹ کے ذریعے سامنے آئی تھی جس میں اس نے ایک شامی فوجی کا تن سے جدا سر بالوں سے پکڑ رکھا تھا۔

اس تصویر پر آسٹریلوی وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور یہ اعلان کیا ہے کہ آسٹریلیا شمالی عراق میں داعش کے جنگجوؤں کی کارروائیوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی طیاروں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقلی کے لیے کارروائیوں میں حصہ لے گا اور ان عراقیوں پر خوراک کے امدادی پیکٹ بھی گرائے گا۔

درایں اثناء یورپی یونین نے شمالی عراق میں خانہ جنگی سے متاثرہ اقلیتوں اور دوسرے متاثرہ افراد کے لیے مالی امداد میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔تنظیم نے عراق کے لیے سالانہ امداد بڑھا کر ایک کروڑ ستر لاکھ یورو کردی ہے۔

یورپی یونین کی انسانی امداد کی کمشنر کرسٹلینا جارجیوا نے اس امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''عراق کو رقم کی فراہمی مسئلہ نہیں بلکہ مستحقین تک اس رقم کو پہنچایا جانا مسئلہ ہے۔اس سے سنجار کے پہاڑی علاقے میں پھنسے ہوئے ہزاروں عراقیوں کی مدد کی جائے گی''۔