.

ابو بکر البغدادی کیطرف سے عسکریت پسندوں کو شادیوں کی اجازت

وہ شادی خواستگار ہیں اور اچھی زندگی کا یقین دلاتے ہیں: یزیدی خواتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کے اعلان کردہ خلیفہ ابو بکر البغدادی نے اپنے عسکری گروپ کے وابستگان کو شادیوں کی اجازت دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو کارکن شادی کے خواہش مند ہیں انہیں اجازت ہے۔

شام کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ایک گروپ کے مطابق شادی کے خواہش مندوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے نام اور پتے دے دیں۔
آبزر ویٹری کے مطابق ماہ جون کے شروع میں داعش کے وابستگان نے گھروں میں دستک دے کر شادی کی خواہش ظاہر کرنے کی بنیاد پر خبروں میں جگہ پائی تھی۔

عراقی قصبے بیجی میں اس نوعیت کے واقعات زیادہ رپورٹ ہوئے تھے۔ اس قصبے پر داعش کا قبضہ ہے اور یہاں کی غیر شادی شدہ خواتین کی کوشش رہی کہ وہ سنی عسکریت پسندوں کی شادی کی خواہش سے بچ سکیں۔

بیجی کی رہائشیوں نے بتایا انہیں اس وقت بہت خوف محسوس ہوا جب داعش کے عسکریت پسند گھر گھر جاکر غیر شادی شدہ خواتین کے بارے میں اعداد و شمار اکٹھے کر ہے تھے۔

اس موقع پر داعش کے ان لوگوں کا کہنا تھا کہ بہت سے مجاہدین غیر شادی شدہ ہیں اور وہ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ ماہ اگست کے آغاز میں یزیدی قبیلے کی قبضے میں لی گئی خواتین کو عمر کے لحاظ سے بانٹ دیا گیا تاہم انہیں اسلام قبول کرنے کے لیے کوئی دھمکی نہ دی گئی۔

ایک یزیدی عورت نے کہا ''وہ ہم سے شادی کرنے کے خواستگار ہیں اور یہ یقین دلاتے ہیں کہ انہیں گھروں میں مکمل آرام اور سکون سے بھر پور خوشگوار زندگی گذارنے کا موقع ملے گا۔ ''

واضح رہے داعش نامی گروپ عراق اور شام دونوں ملکوں میں کئی علاقوں پر قابض ہے اور اس نے اسلامی ریاست کا اعلان کر رکھا ہے۔