.

جی سی سی اجلاس: قطر سے کشیدگی کے خاتمے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج تعاون کونسل [جی سی سی] کے رکن ممالک کا وزرائے خارجہ سطح کا ایک اہم اجلاس سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہوا، اجلاس میں خطے کی صورت حال بالخصوص قطر اور دوسرے خلیجی ملکوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو ختم کرنے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کویتی وزیر خارجہ الشیخ صباح بن خالد الصباح نے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری پر بھی زور دیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الشیخ صباح کا کہنا تھا کہ وزرائے خارجہ اجلاس میں خلیجی ممالک کے مابین تعلقات کی بہتری اور خلیج تعاون کونسل کا سفر جاری رکھنے کے لیے پہلے سے طے شدہ امور پر عمل درآمد پر اتفاق کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام خلیجی ممالک مشترکہ عمل کو آگے بڑھانے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے بالخصوص سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے سفیروں کی قطر واپسی کی راہ ہموار کرنے کے لیے تیار ہیں۔

خلیجی وزرائے خارجہ اجلاس میں اس مرتبہ یمنی وزیر خارجہ جمال السلال بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے اپنے ملک میں جاری سیاسی اور سیکیورٹی بحران پر بات کی۔ یمن میں کشیدگی کا خاتمہ جی سی سی وزرائے خارجہ کے ایجنڈے میں بھی شامل تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے ذرائع کے مطابق وزرائے خارجہ اجلاس نے یمن میں سیاسی کشیدگی کے جلد از جلد خاتمے کی ضرورت سے اتفاق کرتے ہوئے صنعاٰء حکومت کو اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

اجلاس میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل، متحدہ عرب امارات کے الشیخ عبداللہ بن زاید، بحرین کے الشیخ خالد آل خلیفہ، ریاست عمان کے یوسف بن علوی اور قطری وزیر خارجہ خالد العطیہ شریک تھے۔

اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیے میں خلیجی ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون پر زور، ایران اور دوسرے پڑوسی ملکوں کے ساتھ باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات کے قیام، خطے کی بالادستی، سلامتی، خود مختاری اور خلیجی ممالک کے اندرونی امور میں عدم مداخلت کے اصول کے تحت دیگر ملکوں سے تعلقات استوار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اعلامیے میں دہشت گردی کی مذمت، اقوام کے درمیان بقائے باہمی کے اصول کو آگے بڑھانے، دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز، عرب خطے کو درپیش دہشت گردی کے چیلنجز سے مل کر نمٹنے، تکفیری اور دہشت گرد تنظیموں سے عدم تعاون کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ اسلام کا دہشت گردی، انتہا پسندی اور تکفیری نظریات سے کوئی تعلق نہیں اور خطے کے تمام ممالک دہشت گردی کے ناسور سے نمٹییں‌ گے۔