امارات کا خطے میں انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر زور
متحدہ عرب امارات نے خطے میں تیزی سے پھیلنے والی انتہا پسندی بالخصوص عراق، شام، یمن، لیبیا، صومالیہ اور افغانستان میں انتہا پسندانہ رحجانات کی حوصلہ شکنی کے لیے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
گذشتہ روز اماراتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پوری دنیا میں دہشت گردی کے پھیلتے ناسور کے خاتمے بالخصوص شام اور عراق میں انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے مشترکہ حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
خیال رہے کہ یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب ویلز میں شمالی اوقیانوس کی تنظیم"نیٹو" کی دو روزہ سربراہ کانفرنس آج سے شروع ہو رہی ہے۔ کانفرنس میں متحدہ عرب امارات کو ایک مبصر کے طور پر شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات عالمی برادری سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ دہشت گرد اور انتہا پسند کون اور امن پسند کون ہے۔ اس لیے دہشت گردی، انتہا پسندی اور قتل وغارت گری پر یقین رکھنے والے تمام عسکریت پسند گروپوں پر پوری عالمی برداری کی جانب سے پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی صرف عراق اور شام میں نہیں بلکہ دنیا کے کئی دوسرے ممالک براہ راست اس کی لپیٹ میں ہیں۔ ان میں افغانستان، صومالیہ، لیبیا اور یمن سرفہرست ہیں۔ ان تمام ملکوں میں موجود تکفیری نظریات کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے ورنہ دہشت گردی کا اژدھا پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
-
ریاض: دہشت گردی پر امریکی سمیت 24 ملزمان کو قید
سعودی عرب میں انسداد دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کرنے والی خصوصی فوج داری عدالت ...
بين الاقوامى -
سویڈن کا دہشت گردی کے دو منصوبے ناکام بنانے کا دعویٰ
سویڈن کے سیکیورٹی حکام نے ملک میں مشتبہ اسلامی عسکریت پسندوں کی دہشت گردی کی دو ...
بين الاقوامى -
داعش: برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح بلند
برطانوی وزیرداخلہ تھریسا مے نے عراق اور شام میں برسرپیکار باغی جنگجو گروپوں کی ...
بين الاقوامى