.

دھماکے میں احرارالشام کے سربراہ سمیت 40 ہلاک

شمال مغربی صوبے ادلب میں باغی گروپ کے اجلاس کے دوران حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں ایک پُراسرار دھماکے کے نتیجے میں ایک بڑے باغی جنگجو گروپ کے سربراہ سمیت چالیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق بم دھماکے میں باغی گروپ احرارالشام کے متعدد لیڈر مارے گئے ہیں۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ دھماکے کس حملے کے نتیجے میں ہوا ہے لیکن اس واقعہ سے حزب اختلاف سے وابستہ جنگجو مزید کمزور ہوں گے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق شمال مغربی صوبے ادلب کے قصبے رام حمدان میں احرارالشام کے سربراہ حسن عبود مارے گئے ہیں مگر اس نے یہ تفصیل نہیں بتائی ہے کہ حسن اور ان کے ساتھی کیسے مارے گئے ہیں۔

شامی حکومت کے مخالف کارکنان پرمشتمل ادلب نیوز نیٹ ورک کے مطابق حسن عبود احرارالشام کے دوسرے سرکردہ عہدے داروں کے ساتھ ایک اجلاس میں شریک تھے۔اس دوران ایک خود کش بمبار نے اپنی بارود سے بھری جیکٹ دھماکے سے اڑادی ہے جس کے نتیجے میں اجلاس میں شریک اس باغی گروپ کے قائدین اور کارکنان مارے گئے ہیں۔

احرار الشام اسلام کی قدامت پسندانہ تشریح وتعبیر کرتی ہے لیکن وہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف برسر پیکار اعتدال پسند باغی گروپوں کے ساتھ بھی مل کر کام کرتی رہی ہے۔یہ تنظیم باغی گروپوں پر مشتمل اتحاد اسلامی محاذ میں بھی شامل ہے لیکن حالیہ مہینوں کے دوران اس کو وسائل کی کمی کا سامنا رہا ہے جس کے بعد اس نے شامی فوج کے خلاف اپنی سرگرمیوں کو بھی محدود کردیا ہے۔