.

اسد رجیم کا خاتمہ، داعش کی سرکوبی اولین ترجیح ہے: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کی استبدادی حکومت کا خاتمہ اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامی"داعش" کی سرکوبی ان کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترکی شام میں دیرپا قیام امن کے ساتھ ساتھ اس کو متحد رکھنے کے لیے ہرممکن کوششیں‌ جاری رکھے گا۔

خبر رساں ایجنسی"رائیٹرز" کے مطابق پارلیمنٹ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت 15 لاکھ شامی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔اس مقصد کے لیے انہیں عالمی برادری کے تعاون کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ ترک صدر کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترک پارلیمنٹ آج جمعرات کے اجلاس میں حکومت کو شام اور عراق میں "داعش" کے خلاف فوجی کارروائی کے مینڈیٹ پر غور کے بعد اپنا فیصلہ جاری کرے گی۔ امکان ہے کہ پارلیمنٹ حکومت کو داعش کے خلاف عالمی اتحاد میں‌شمولیت کی اجازت دے دے گی۔

امریکا اور اس کے عرب اور مغربی اتحادیوں کی جانب سے داعش کے خلاف فضائی حملوں کے ساتھ ترکی پر بھی اتحاد میں شامل ہونے کے لیے دباو بڑھ رہا ہے۔ شام میں داعش کے خلاف گھیرا تنگ ہونے کے بعد جنگجوؤں کی ترکی کی سرحد کی جانب پیش قدمی کا امکان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترک حکومت داعشی جنگجوؤں کو روکنے کے لیے ذہنی طور پر فوجی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔