.

ایران: جنرل قاسم سلیمانی کی کرد جنگجووں کے ساتھ تصویر

ایرانی القدس فورس دیگر ملکوں میں کارروائیوں کے لیے مختص ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ٹیلی ویژن نے ایران کے ایک موثر ترین جرنیل اور دوسرے ملکوں میں ایرانی مفادات کے کارروائیاں کرنے کی ذمہ دار القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی عراق میں کرد جنگجووں کے ساتھ تصویر آن ائیر کی ہے۔

القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی یہ تصویر سوشل میڈیا پر بھی غیر معمولی طور پر پیش کی گئی ہے۔

واضح رہے میجر جنرل قاسم سلیمانی کی تصویر شازونادر ہی اس طرح منظر عام پر آتی ہے ، تازہ تصویر میں سر اور داڑھی کے سرمئی بالوں کے حامل جنرل سلیمانی کو کرد عسکریت پسند وں کے ساتھ کھڑے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

البتہ ایرانی ٹی وی نے جنرل قاسم کی تصویر سامنے لاتے ہوئے یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ تصویر عراق کے کس علاقے میں بنائی گئی ہے۔

ایران نے شروع میں جنرل قاسم سلیمانی کے عراق میں ہونے کی تردید کی تھی لیکن اسکے باوجود سرکاری میڈیا پر مختلف تصاویر دکھائی گئیں، جن سے یہ بات صاف ہو گئی کہ جنرل قاسم داعش کے خلاف عراق میں سرگرم ہے۔

خیال رہے القدس فورس ایران کے انقلابی محافظین کی ایک شاخ ہے۔ اس کے ذمے ملک کے باہر سے ایرانی انقلاب اور ایران کو درپیش خطرات سے نمٹنا ہے۔ اس وجہ سے جنرل سلیمان کی تصویر کم ہی سامنے لائی جاتی ہے۔

جنرل قاسم کو اپنی ذمہ داریوں کی وجہ سے سکیورٹی فورسز میں غیر معمولی طور پر مضبوط جرنیل مانا جاتا ہے۔ عراق میں جب سے داعش موثر ہوئی ہے جنرل قاسم اس کے توڑ کے لیے عراق حکومت کو اسلحہ بھجوانے کے علاوہ فوجی مشاورت بھی دے رہی ہے۔

اس سے پہلے ایرانی جنرل سلیمانی کی تصویر ماہ ستمبر میں منظر عام پر اس وقت لائی گئی تھی جب داعش سے عراقی قصبہ واپس لیا گیا تھا۔

ایران کے محکمہ انصاف کے ایک سینئیر ذمہ دار کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی اس سے پہلے ماہ اگست کے دوران اربیل نامی قصبے میں بھی کرد جنگجووں کے ساتھ موجود رہے ہیں۔

سنی عسکریت پسندوں سے عراقی حکومت کے لیے پیدا شدہ مشکلات نے تہران کو بھی پریشان کر دیا ہے کہ عسکریت پسند ایرانی سرحدوں پر نہ پہنچ جائیں۔ اس مشترکہ خوف نے ایران اور عراق کی حکومتوں کو مزید قریب کر دیا ہے۔